بھارتی سول اور فوجی طیاروں پر پابندی 23 جنوری 2026 تک برقرار
اسلام آباد:
پاکستان نے بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع کر دی ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے نئے نوٹم (NOTAM) کے مطابق بھارتی سول اور فوجی طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی حدود 23 جنوری 2026 تک بند رہے گی۔
یہ پابندی ابتدائی طور پر 23 اپریل 2025 کو عائد کی گئی تھی، جو تاحال مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔ نوٹم کے مطابق بھارتی مسافر طیاروں اور فوجی پروازوں کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ فضائی حدود کی بندش میں توسیع علاقائی سیکیورٹی صورتحال کے معمول کے جائزے کے بعد کی گئی ہے۔ پابندی اگلے نوٹس تک برقرار رہے گی۔
پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کی مسلسل بندش کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے، کیونکہ انہیں اپریل 2025 سے اپنی پروازیں طویل راستوں سے گزارنا پڑ رہی ہیں۔ فضائی صنعت کے اندازوں کے مطابق اضافی ایندھن اور آپریشنل اخراجات کی مد میں بھارتی ایئرلائنز کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ایئر انڈیا ہوئی ہے، جو بھارت کی واحد ایئرلائن ہے جس کا بین الاقوامی نیٹ ورک وسیع پیمانے پر فعال ہے۔ کمپنی دستاویزات کے مطابق بعض طویل فاصلے کی پروازوں پر ایندھن کے اخراجات میں 29 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ سفر کا دورانیہ تین گھنٹے تک بڑھ گیا ہے۔
اس سے قبل ایئر انڈیا بھارتی حکومت سے لابنگ کر رہی تھی کہ وہ چین کو قائل کرے تاکہ اسے سنکیانگ کے حساس فوجی فضائی علاقے سے گزرنے کی اجازت دی جائے، جس سے پروازوں کے راستے مختصر ہو سکیں۔ یہ غیر معمولی درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی جب بھارت اور چین کے درمیان پانچ سالہ تعطل کے بعد براہِ راست پروازیں بحال ہوئی تھیں، جو ہمالیائی سرحدی جھڑپ کے بعد معطل کر دی گئی تھیں۔
ایئر انڈیا اپنی عالمی ساکھ اور بین الاقوامی نیٹ ورک کو دوبارہ مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، خاص طور پر جون میں گجرات میں لندن جانے والے بوئنگ 787 ڈریم لائنر کے حادثے کے بعد، جس میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے اور سیکیورٹی چیکس کے باعث کمپنی کو عارضی طور پر پروازیں کم کرنا پڑی تھیں۔
تاہم، اپریل کے اواخر میں پاک بھارت سفارتی کشیدگی کے بعد پاکستانی فضائی حدود کی بندش نے ایئر انڈیا کی بحالی کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔



