پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر ان کی بہنوں نے ایک بار پھر راولپنڈی کے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دے دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب علیمہ خان، نورین خان اور عظمیٰ خان کارکنان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر پہنچیں، لیکن پولیس کی سخت ناکہ بندی کی وجہ سے انہیں جیل جانے سے روک دیا گیا۔
دھرنے میں پی ٹی آئی کے کارکنان کی بڑی تعداد شریک تھی، اور خواتین نے جیل جانے والے راستے پر جاکر احتجاج کیا۔ میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان نے کہا کہ حکومت عمران خان کو خاموش کروانا چاہتی ہے اور انہیں تنہائی کی قید میں رکھ کر ذہنی طور پر تکلیف دی جا رہی ہے۔ علیمہ خان نے کہا:
“ہم آج واٹر کینن استعمال ہوئے تو بھی گلیوں میں جائیں گے لیکن واپس نہیں جائیں گے، ہم اپنے ساتھ کمبل اور جیکٹ لائے ہیں اور جہاں روکا جائے گا وہاں بیٹھ جائیں گے۔ آج ہم اٹھیں گے ہی نہیں۔ حکومت چاہے یہ کیا کرے، ہم آئین اور قانون کے دائرے میں ہیں۔”
اطلاعات کے مطابق پولیس نے جیل جانے والے تمام راستے بند کر دیے ہیں اور اڈیالہ جیل کے اطراف سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ دفعہ 144 بھی نافذ کی گئی ہے اور جیل کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ خاص طور پر گورکھپور کے مقام پر اینٹی رائٹس والز نصب کیے گئے ہیں، اور اڈیالہ جیل کے گیٹ نمبر 5 کے باہر واٹر کینن بھی پہنچا دی گئی ہے تاکہ دھرنے کو کنٹرول کیا جا سکے۔
علیمہ خان اور دیگر بہنوں کا موقف ہے کہ وہ صرف اپنے بھائی سے ملاقات کے حق کے لیے احتجاج کر رہی ہیں اور ان کا دھرنا آئینی اور قانونی دائرے میں ہے۔ پی ٹی آئی کارکنان اور رہنما اس دھرنے کے ساتھ شامل ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
یہ دھرنا گزشتہ کچھ دنوں میں بہنوں کے احتجاج کا تسلسل ہے، اور سیاسی حلقوں میں اس پر گہری توجہ مرکوز ہے، کیونکہ یہ پاکستان کی سیاسی صورتحال میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔



