امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے نئے سال کی شام کیے جانے والے ایک بڑے بم حملے کی سازش ناکام بنا دی ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی کے مطابق اس منصوبے میں متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کی تیاری کی جا رہی تھی، جن میں امریکی امیگریشن ایجنٹس اور ان کی گاڑیاں بھی شامل تھیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق اس کیس میں چار افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے، جن پر سازش اور غیر رجسٹرڈ تباہ کن آلات رکھنے کے الزامات ہیں۔ یہ مقدمہ کیلیفورنیا کے سینٹرل ڈسٹرکٹ کی وفاقی عدالت میں درج کیا گیا ہے۔
اٹارنی جنرل پام بونڈی نے اپنے بیان میں کہا کہ “ٹرٹل آئی لینڈ لبریشن فرنٹ” نامی ایک گروہ، جسے بائیں بازو کا، حکومت مخالف اور سرمایہ دارانہ نظام کا مخالف قرار دیا گیا ہے، کیلیفورنیا میں نئے سال کی رات سے بم دھماکوں کا سلسلہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ اس گروہ کا منصوبہ تھا کہ آئی سی ای (امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) کے اہلکاروں اور ان کی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا جائے۔
شکایت نامے کے مطابق اس سازش کے تحت لاس اینجلس کے علاقے میں نئے سال کی رات بارہ بجے پانچ مختلف مقامات پر دھماکا خیز آلات نصب کرنے کا منصوبہ تھا، جن کے ذریعے دو امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنانا مقصود تھا۔
ملزمان میں آڈری الین کیرول (30 سال)، زکری ایرن پیج (32 سال)، ڈانٹے گیفیلڈ (24 سال) اور ٹینا لائی (41 سال) شامل ہیں۔ حلفیہ بیان کے مطابق آڈری کیرول نے نومبر میں ایک مخبر کو آٹھ صفحات پر مشتمل ہاتھ سے لکھی ہوئی دستاویز دی، جس کا عنوان “آپریشن مڈنائٹ سن” تھا، اور اس میں بم حملے کی مکمل منصوبہ بندی درج تھی۔
تحقیقات کے مطابق کیرول اور پیج نے بعد میں دیگر دو افراد کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا۔ ملزمان نے مبینہ طور پر بم بنانے کا سامان اکٹھا کیا اور موجاوے صحرا کے ایک دور دراز مقام پر جا کر 12 دسمبر 2025 کو تجرباتی دھماکے بھی کیے۔ تاہم ایف بی آئی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں مکمل بم تیار کرنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا۔
عدالتی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ یہ چاروں افراد “آرڈر آف دی بلیک لوٹس” نامی ایک خفیہ سگنل گروپ چیٹ کا حصہ تھے، جسے خود ملزمان نے “انتہا پسند” قرار دیا تھا۔ مزید یہ کہ گروہ نے جنوری یا فروری میں آئی سی ای اہلکاروں کو پائپ بموں کے ذریعے نشانہ بنانے پر بھی گفتگو کی تھی، جس میں مبینہ طور پر یہ کہا گیا کہ اس سے خوف و ہراس پھیلایا جا سکے گا۔
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی حکومت بائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں کے خلاف تحقیقات تیز کرنے کے احکامات جاری کر چکی ہے۔ حکام کے مطابق بروقت کارروائی نے ممکنہ بڑے جانی نقصان کو روک لیا۔



