الکاراز اور سنر کی گرینڈ سلام جنگ، ویمنز ٹینس میں حیرت انگیز موڑ
لندن / پیرس / نیویارک:
کارلوس الکاراز اور جینک سنر نے 2025 کے ٹینس سیزن کو یادگار بنا دیا، جہاں دونوں اسٹار کھلاڑیوں کے درمیان جاری تاریخی رقابت — جسے مداحوں نے ’’سنکاراز‘‘ کا نام دیا — نے مردوں کے ٹینس پر مکمل طور پر قبضہ جمائے رکھا، جبکہ ویمنز ٹینس میں تنوع، ڈرامہ اور نئے چیمپئنز سامنے آئے۔
جینک سنر نے سیزن کا آغاز شاندار انداز میں کرتے ہوئے آسٹریلین اوپن کے فائنل میں الیگزینڈر زیویریف کو شکست دے کر اپنا ٹائٹل برقرار رکھا۔ اس فتح کے ساتھ ہی وہ تین گرینڈ سلام جیتنے والے پہلے اطالوی کھلاڑی بن گئے اور 1959 اور 1960 میں فرنچ اوپن جیتنے والے نکولا پیٹرینجیلی کو پیچھے چھوڑ دیا۔
فروری میں 2024 کے اینٹی ڈوپنگ کیس کے باعث تین ماہ کی پابندی کے بعد سنر کی واپسی نے ٹینس کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ ان کی الکاراز کے ساتھ رقابت نے اس وقت نیا رنگ اختیار کیا جب دونوں فرنچ اوپن کے فائنل میں آمنے سامنے آئے۔ پانچ سیٹ پر مشتمل یہ میچ پانچ گھنٹے 29 منٹ تک جاری رہا، جو رولان گاروس کی تاریخ کا طویل ترین فائنل ثابت ہوا۔
اس سنسنی خیز مقابلے میں کارلوس الکاراز نے تین میچ پوائنٹس بچاتے ہوئے شاندار کم بیک کیا اور فتح حاصل کی، جس کے بعد انہیں رافیل نڈال کے بعد کے دور میں ’’پرنس آف کلے‘‘ قرار دیا جانے لگا۔
’’سنکاراز‘‘ کی یہ جنگ ومبلڈن فائنل میں بھی جاری رہی، جہاں سنر نے فرنچ اوپن کی شکست کا بدلہ لیتے ہوئے الکاراز کو ہرا کر آل انگلینڈ کلب میں اپنی پہلی ٹرافی جیت لی، جس سے یو ایس اوپن میں ان کے متوقع ٹاکرے کی راہ ہموار ہو گئی۔
نیویارک میں الکاراز نے سیمی فائنل میں نوواک جوکووچ کو شکست دے کر ان کے ریکارڈ 25ویں گرینڈ سلام کے خواب کو مؤخر کر دیا۔ فائنل میں ہسپانوی اسٹار نے سنر کو زیر کر کے اپنی دوسری یو ایس اوپن ٹرافی جیتی اور باہمی رقابت میں اپنی برتری مضبوط کر لی۔
میچ کے بعد الکاراز نے کہا،
“میں ہر روز خود کو بہتر بنانے کے لیے سو فیصد دیتا ہوں تاکہ جان سکوں کہ جینک کو شکست دینے اور بڑے ٹائٹلز جیتنے کے لیے مجھے مزید کیا کرنا ہے۔ یہ رقابت میرے لیے، اس کے لیے اور مداحوں کے لیے بے حد خاص ہے۔”
چھ گرینڈ سلام ٹائٹلز کے ساتھ الکاراز اب سنر کے چار ٹائٹلز پر سبقت رکھتے ہیں اور آئندہ سال آسٹریلین اوپن میں وہ رافیل نڈال کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کم عمر ترین کھلاڑی بن سکتے ہیں جو تمام گرینڈ سلام مکمل کرے۔
ویمنز ٹینس میں سنسنی
خواتین کے مقابلوں میں سب سے بڑی حیرت میلبورن میں دیکھنے کو ملی، جہاں میڈیسن کیز نے آرینا سبالینکا کو شکست دے کر 29 برس کی عمر میں اپنا پہلا گرینڈ سلام جیتا اور اوپن ایرا (1968 کے بعد) کی چوتھی معمر ترین پہلی بار چیمپئن بن گئیں۔
کوکو گاف نے فرنچ اوپن جیت کر امریکی شائقین کو خوشی دی، جبکہ ومبلڈن فائنل میں ایگا شوائٹیک نے امانڈا انیسی مووا کو بغیر کوئی گیم ہارے شکست دی، جو فائنل کی تاریخ کے نایاب لمحات میں شامل ہو گیا۔
انیسی مووا نے اس شکست کے باوجود یو ایس اوپن فائنل تک رسائی حاصل کی، تاہم وہاں سبالینکا نے انہیں شکست دے کر اپنا ٹائٹل برقرار رکھا اور اپنے گرینڈ سلام ٹائٹلز کی تعداد چار کر لی۔
ڈبلیو ٹی اے فائنلز میں عالمی نمبر ایک سبالینکا کو ایلی نا رباکینا نے فیصلہ کن میچ میں شکست دی، جہاں رباکینا نے ریاض میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 52 لاکھ 35 ہزار ڈالر کی انعامی رقم حاصل کی۔
سیزن کے دوران انعامی رقوم میں اضافے کا معاملہ بھی زیرِ بحث رہا، جب پروفیشنل ٹینس پلیئرز ایسوسی ایشن نے ٹینس حکام کے خلاف مقدمہ دائر کیا اور سرکردہ کھلاڑیوں نے گرینڈ سلام ٹورنامنٹس سے زیادہ حصہ دینے کا مطالبہ کیا۔



