پاکستانخبریں

ایم ڈی کیٹ نتائج پر اعتراضات، درجنوں طلبہ کا سندھ ہائی کورٹ سے رجوع، میرٹ کی خلاف ورزی کا الزام

کراچی — سندھ میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے منعقد کیے جانے والے ایم ڈی کیٹ امتحان کے نتائج ایک بار پھر تنازع کا باعث بن گئے ہیں۔ نتائج سے متاثر ہونے والے 25 سے زائد طلبہ نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کرتے ہوئے داخلہ عمل میں میرٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

درخواست گزار طلبہ کا مؤقف ہے کہ داخلوں کے دوران سینکڑوں نشستوں پر شفاف طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا اور طے شدہ میرٹ اصولوں کو نظرانداز کیا گیا۔ طلبہ کے مطابق گزشتہ برسوں کے امتحانی نتائج کو بنیاد بنا کر ہر سال میرٹ کا ایک واضح فارمولہ تشکیل دیا جاتا رہا ہے، تاہم رواں داخلہ عمل میں اس طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔

عدالتی درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بعض سابقہ سیشن کے امیدواروں کو غیر معمولی طور پر زیادہ نمبر دے کر نئے امیدواروں کے ساتھ ایک ہی فہرست میں شامل کر دیا گیا، جس کے باعث بڑی تعداد میں اہل طلبہ نشستوں سے محروم ہو گئے۔ متاثرہ طلبہ کا کہنا ہے کہ اس عمل نے ان کے تعلیمی مستقبل کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ داخلہ عمل کو شفاف بنانے کے لیے متنازع نتائج کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور میرٹ کی بنیاد پر سیٹوں کی دوبارہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ اس کیس میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، وفاقی وزارتِ قومی صحت اور متعلقہ تعلیمی اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 دسمبر تک تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت کی آئندہ سماعت میں اس اہم معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button