اس بار اگر اسلام آباد گئے تو یا کفن میں آئیں گے یا کامیاب ہوں گے، سہیل آفریدی
پشاور:
معروف قبائلی رہنما اور سرگرم سیاسی شخصیت سہیل آفریدی نے ایک بار پھر سخت اور جذباتی بیان دے کر ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ اپنے تازہ خطاب میں انہوں نے کہا کہ “اس بار اگر اسلام آباد گئے تو یا کفن میں آئیں گے یا کامیاب ہو کر واپس لوٹیں گے”۔ ان کے اس بیان کو موجودہ سیاسی حالات میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے ساتھی پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، لیکن مسلسل نظرانداز کیے جانے اور عوامی مسائل کے حل میں تاخیر نے انہیں سخت موقف اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ جدوجہد ذاتی مفادات کے لیے نہیں بلکہ عام عوام، خصوصاً قبائلی علاقوں کے حقوق کے لیے ہے، جو برسوں سے بنیادی سہولیات سے محروم چلے آ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد مارچ کا مقصد تصادم نہیں بلکہ اپنے مطالبات کو آئینی اور جمہوری طریقے سے حکمرانوں تک پہنچانا ہے۔ تاہم، سہیل آفریدی نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر انہیں روکا گیا یا ان کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ ان کے الفاظ میں، “ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں، کیونکہ اب یہ عزت اور بقا کی جنگ بن چکی ہے۔”
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کا یہ بیان عوامی جذبات کی ترجمانی کرتا ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے تاحال اس بیان پر کوئی واضح ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سکیورٹی اور انتظامی تیاریوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
عوامی سطح پر اس بیان کو ملا جلا ردِعمل ملا ہے۔ کچھ حلقے اسے حوصلے اور عزم کی علامت قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ ایسے بیانات کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ بہرحال، یہ طے ہے کہ سہیل آفریدی کا یہ اعلان آنے والے دنوں میں ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کرے گا اور سب کی نظریں اسلام آباد کی جانب لگی ہوئی ہیں۔



