او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ریلیز ہونے والی نئی ویب سیریز ’’سنگل پاپا‘‘ نے اپنی منفرد اور حقیقت سے قریب کہانی، مضبوط اداکاری اور خاندانی نوعیت کے مواد کے باعث شائقین اور ناقدین دونوں کی بھرپور توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ سیریز نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہے بلکہ جدید معاشرتی مسائل، والدین کی ذمہ داریوں اور رشتوں کی اہمیت کو بھی نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں اجاگر کرتی ہے۔
اگرچہ کہانی کے چند پہلو مزید وضاحت کے متقاضی محسوس ہوتے ہیں اور بعض ذیلی کرداروں کو زیادہ اسکرین ٹائم دیا جا سکتا تھا، تاہم مجموعی طور پر ’’سنگل پاپا‘‘ ایک متوازن، مثبت اور متاثر کن ویب سیریز ثابت ہوتی ہے، جو او ٹی ٹی مواد میں ایک خوشگوار اضافہ قرار دی جا رہی ہے۔
ناقدین کے مطابق ’’سنگل پاپا‘‘ کی سب سے بڑی خوبی اس کے جذباتی مناظر ہیں، خصوصاً مرکزی کردار اور نومولود بچے کے درمیان قائم ہونے والا رشتہ نہایت خوبصورتی اور سچائی کے ساتھ فلمایا گیا ہے۔ یہ مناظر نہ صرف دل کو چھو لیتے ہیں بلکہ والدین اور بچوں کے درمیان غیر مشروط محبت کی یاد دہانی بھی کراتے ہیں۔
ہدایتکار ششانت کھیتان، ہتیش کیولیہ اور نیرج اُدھوانی نے مشترکہ طور پر سیریز کو سادہ مگر مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ تین ہدایتکاروں کے باوجود کہانی میں تسلسل برقرار رہتا ہے اور کہیں بھی انتشار کا احساس نہیں ہوتا۔ چھ اقساط پر مشتمل یہ سیریز تیز رفتار ہے، جس کے باعث ناظرین کی دلچسپی ابتدا سے آخر تک قائم رہتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ سیریز مکمل طور پر خاندانی ناظرین کے لیے موزوں ہے، جو آج کے او ٹی ٹی دور میں ایک خوش آئند امر ہے۔
دوسری جانب نیہا دھوپیا نے منفی کردار میں مضبوط اسکرین پریزنس دکھائی ہے۔ ان کا کردار کہانی میں قانونی اور سماجی رکاوٹوں کی نمائندگی کرتا ہے، جو مرکزی کردار کے سفر کو مزید مشکل بناتا ہے اور ڈرامائی کیفیت کو بڑھا دیتا ہے۔ معاون اداکاروں نے بھی اپنی اداکاری سے کہانی کو سہارا دیا ہے اور ہر کردار اپنی جگہ اہم محسوس ہوتا ہے۔
سیریز کی کہانی ایک ایسے شخص کے گرد گھومتی ہے جو بظاہر غیر سنجیدہ اور لاپروا دکھائی دیتا ہے، مگر دل سے باپ بننے کی شدید خواہش رکھتا ہے۔ مرکزی کردار گورو گہلوت کو کنال کیمو نے نہایت فطری انداز میں نبھایا ہے، جس میں نادانی اور ذمہ داری کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ ان کی اداکاری کردار کو حقیقت کا رنگ دیتی ہے اور ناظرین آسانی سے اس سے جڑ جاتے ہیں۔
سیریز میں مزاح اور جذبات کو اس خوبی سے یکجا کیا گیا ہے کہ ناظرین کبھی مسکراتے ہیں اور کبھی جذباتی ہو جاتے ہیں۔ کہانی ایسے موضوعات کو چھیڑتی ہے جن پر عام طور پر کم بات کی جاتی ہے، جیسے مرد کا بطور واحد سرپرست بچے کی پرورش کرنا اور معاشرے کا اس حوالے سے رویہ۔



