واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے قوم کے نام ایک غیر معمولی شام کے خطاب میں اپنی حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے معاشی بہتری اور آئندہ سال اقتصادی عروج کا وعدہ کیا، جبکہ ملک میں بلند مہنگائی اور بڑھتے اخراجات کا ذمہ دار سابق صدر جو بائیڈن اور ڈیموکریٹک پالیسیوں کو ٹھہرایا۔
صدر ٹرمپ نے مختصر مگر تیز رفتاری سے کیے گئے خطاب میں کہا کہ انہوں نے اقتدار سنبھالتے وقت ایک بگڑی ہوئی معیشت ورثے میں پائی تھی، جسے ان کی حکومت درست سمت میں لے جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صارفین کو درپیش مشکلات وقتی ہیں اور امریکا جلد ایک مضبوط معاشی مرحلے میں داخل ہونے والا ہے۔
خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے غیر قانونی امیگریشن، جرائم میں اضافے اور سماجی پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ نے سرحدی کنٹرول بہتر بنایا اور بعض اشیاء کی قیمتوں میں کمی لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم انہوں نے مہنگائی سے نمٹنے کے لیے کسی جامع نئی پالیسی کا اعلان نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ قیمتیں اب بھی بلند ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ مؤقف اختیار کیا کہ معیشت تیزی سے بہتری کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق ٹیکس پالیسیوں، تجارتی محصولات (ٹیرف) اور فیڈرل ریزرو کی قیادت میں متوقع تبدیلیاں آنے والے وقت میں مثبت نتائج دیں گی۔
خطاب میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی فوج کے تقریباً 14 لاکھ 50 ہزار اہلکاروں کو آئندہ ہفتے ایک خصوصی “وارئیر ڈیویڈنڈ” کے طور پر 1,776 ڈالر دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے صحت کے شعبے میں براہِ راست نقد معاونت کی تجویز کی حمایت کی، جس کے تحت عوام کو ہیلتھ انشورنس خریدنے کے لیے رقم دی جائے گی، تاہم یہ تجویز تاحال کانگریس کی منظوری سے مشروط ہے۔
حیران کن طور پر صدر ٹرمپ نے خارجہ امور پر محدود گفتگو کی۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال کا مختصر ذکر کیا، مگر یوکرین جنگ یا وینزویلا سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بات نہیں کی، حالانکہ یہ موضوعات ان کی دوسری مدتِ صدارت کے ابتدائی مہینوں میں نمایاں رہے ہیں۔
خطاب ایسے وقت میں کیا گیا جب اگلے سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل مہنگائی اور معاشی صورتحال ایک اہم سیاسی مسئلہ بن چکی ہے۔ ایک حالیہ رائے شماری کے مطابق صرف 33 فیصد امریکی صدر ٹرمپ کی معاشی کارکردگی سے مطمئن ہیں، جبکہ اپوزیشن ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ خطاب میں عوامی مشکلات کے ٹھوس حل پیش نہیں کیے گئے۔
ڈیموکریٹ رہنماؤں نے خطاب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صدر نے ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے سابق حکومت پر الزامات دہرانے کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق روزگار میں سست روی، بڑھتی بے روزگاری اور بلند قیمتیں اب بھی امریکی عوام کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔



