امریکی دباؤ میں اضافہ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہلکا اضافہ
واشنگٹن / کراکس:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے تمام پابندیوں کی زد میں آنے والے تیل بردار جہازوں (آئل ٹینکرز) پر مکمل ناکہ بندی (Blockade) کا حکم دے دیا ہے۔ اس اقدام کو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی تازہ ترین کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ملک کی آمدنی کے سب سے بڑے ذریعے، یعنی تیل کی برآمدات کو نشانہ بنانا ہے۔
صدر ٹرمپ نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ وینزویلا کی حکومت پر امریکی اثاثوں کی چوری، دہشت گردی، منشیات اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ جیسے الزامات کے باعث اسے ’’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دیا جا چکا ہے۔
انہوں نے لکھا:
“اسی لیے آج میں وینزویلا میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے تمام پابندیوں کا شکار تیل بردار جہازوں پر مکمل اور جامع ناکہ بندی کا حکم دے رہا ہوں۔”
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ امریکی صدر اس ناکہ بندی پر عملی طور پر کس طرح عمل درآمد کروائیں گے اور آیا امریکی کوسٹ گارڈ کو جہازوں کو روکنے کا اختیار دیا جائے گا یا نہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکہ نے وینزویلا کے ساحل کے قریب ایک پابندی زدہ آئل ٹینکر ضبط کیا تھا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکی انتظامیہ نے اس دوران خطے میں ہزاروں فوجی اور تقریباً ایک درجن جنگی بحری جہاز تعینات کر دیے ہیں، جن میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز بھی شامل ہے۔
دوسری جانب وینزویلا کی حکومت نے امریکی صدر کے اس اعلان کو ’’بے ہودہ اور جارحانہ دھمکی‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
ٹرمپ کے اعلان کے بعد ایشیائی منڈی میں امریکی خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا اور قیمت 55.96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ منگل کو تیل 55.27 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جو فروری 2021 کے بعد کم ترین سطح تھی۔
تیل کے ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ وینزویلا کی تیل برآمدات میں ممکنہ کمی کا خدشہ ہے، تاہم سرمایہ کار ابھی یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ آیا یہ ناکہ بندی صرف پابندی زدہ جہازوں تک محدود رہے گی یا دیگر جہاز بھی اس کی زد میں آئیں گے۔
قانونی اور عالمی خدشات
بین الاقوامی قانون کی ماہر ایلینا چاچکو کے مطابق امریکی صدر کو بیرونِ ملک افواج تعینات کرنے کا وسیع اختیار حاصل ہے، تاہم اس نوعیت کی ناکہ بندی صدارتی اختیارات اور بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے ایک نیا اور سنجیدہ امتحان ہے۔
انہوں نے کہا کہ ناکہ بندی کو عموماً ’’جنگی اقدام‘‘ تصور کیا جاتا ہے، جس کے لیے سخت قانونی شرائط ہوتی ہیں۔
امریکی کانگریس کے رکن جوآکین کاسترو نے اس اقدام کو ’’بلا شبہ جنگی کارروائی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسی جنگ ہے جس کی نہ تو کانگریس نے منظوری دی اور نہ ہی امریکی عوام اس کے خواہاں ہیں۔
وینزویلا کی برآمدات اور عالمی اثرات
امریکہ کی جانب سے گزشتہ ہفتے آئل ٹینکر کی ضبطی کے بعد وینزویلا کی خام تیل برآمدات میں نمایاں کمی آ چکی ہے، جبکہ اس صورتحال کو مزید سنگین بنانے کے لیے اس ہفتے وینزویلا کی سرکاری آئل کمپنی PDVSA کو سائبر حملے کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔
اگر یہ ناکہ بندی طویل عرصے تک برقرار رہی تو روزانہ تقریباً دس لاکھ بیرل خام تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں پانچ سے آٹھ ڈالر فی بیرل تک اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس صورت میں وینزویلا میں مہنگائی میں شدید اضافہ اور ہمسایہ ممالک کی جانب بڑے پیمانے پر ہجرت کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
صدر مادورو نے امریکی اقدامات کو ’’سامراجی سازش‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا اپنی تیل، گیس اور معدنی دولت کے تحفظ کے لیے ہر قیمت پر مزاحمت کرے گا اور ملک میں امن غالب آئے گا۔



