سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فلم ساز روب رینر کی وفات پر کیے گئے تبصرے نے سوشل میڈیا اور ہولی وڈ شخصیات میں شدید غصہ اور تنقید کو جنم دیا۔ روب رینر اور ان کی اہلیہ مِشیل سنگر رینر کو ان کے برینٹ ووڈ، کیلیفورنیا کے گھر میں مردہ پایا گیا۔
ٹرمپ نے Truth Social پر ایک پوسٹ میں رینر کی وفات کا ذکر کیا اور پھر سیاسی تبصرے کی جانب بڑھ گئے، جس میں انہوں نے رینر کی موت کو “Trump Derangement Syndrome” سے جوڑ کر تنقید کی۔ اس پوسٹ پر فوراً سوشل میڈیا پر شدید ردعمل آیا، اور متعدد مشہور شخصیات نے اسے نامناسب قرار دیا، خاص طور پر جب کہ خاندان ابھی صدمے میں تھا۔
اداکار جوش گیڈ نے ٹویٹر پر لکھا کہ ٹرمپ کی یہ بات حد پار کرنے والی ہے کیونکہ انہوں نے موت کو سیاسی تناظر میں پیش کیا۔ موسیقار جیک وائٹ نے بھی انسٹاگرام پر تنقید کی اور کہا کہ ذاتی یا سیاسی مفادات کے لیے کسی المناک واقعے کا استعمال ناقابل قبول ہے۔ وائٹ نے رینر کو ایک قابل احترام فنکار قرار دیا اور ٹرمپ کے بیانیہ کو خودغرض اور اشتعال انگیز کہا۔
یہ تبصرے ABC کے شو “The View” پر بھی زیر بحث آئے، جہاں میزبان آنا نارو، سنی ہوسٹن، اور ووپی گولڈ برگ نے صدر کے لہجے پر حیرت اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ نارو نے کہا کہ رینر کا خاندان غمگین ہے اور یہ بیان شرمناک ہے، جبکہ گولڈ برگ نے ٹرمپ کے تبصرے میں تحمل کی کمی پر سوال اٹھایا۔
روب رینر، جو ایمی ایوارڈ یافتہ ہدایت کار اور اداکار تھے، فلموں جیسے “When Harry Met Sally…” اور “Misery” کے لیے مشہور تھے اور حالیہ برسوں میں ٹرمپ کے سخت ناقد رہے ہیں۔ حکام نے تصدیق کی کہ رینر اور ان کی اہلیہ قتل کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ ان کے بیٹے نک رینر کو حراست میں لیا گیا ہے اور 4 ملین ڈالر کی ضمانت پر رہا ہونے کے انتظار میں ہے، تفتیش جاری ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ المناک واقعات پر عوامی اور سیاسی تبصرے کے دوران حساسیت برقرار رکھنا کتنا ضروری ہے، خصوصاً جب سیاسی اختلافات شامل ہوں۔



