کراچی / اسلام آباد:
دسمبر 2025 میں پاکستان کی آٹو موبائل مارکیٹ ایک بار پھر خبروں میں رہی۔ سال کے آخری مہینے میں گاڑیوں کی فروخت نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستانی صارف اب بھی کنفیوژن کا شکار ہے۔ کہیں معمولی بہتری نظر آئی، تو کہیں فروخت دباؤ میں رہی۔ مجموعی طور پر یہ مہینہ نہ بہت اچھا کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی مکمل طور پر مایوس کن۔
کار ڈیلرز اور آٹو انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ دسمبر میں عام طور پر سال کے اختتام کی وجہ سے سیلز میں کچھ نہ کچھ حرکت ضرور آتی ہے، مگر 2025 میں صورتحال قدرے مختلف رہی۔
مجموعی سیلز کا رجحان
دسمبر 2025 میں کاروں کی مجموعی فروخت میں پچھلے مہینے کے مقابلے میں ہلکی سی بہتری دیکھی گئی، تاہم سالانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو فروخت اب بھی 2022 اور 2023 کی سطح تک نہیں پہنچ سکی۔
بہت سے خریداروں نے نئی گاڑی خریدنے کا فیصلہ مؤخر رکھا، جس کی بڑی وجہ قیمتیں، بینک فنانسنگ پر سخت شرائط اور بڑھتے ہوئے اخراجات بتائے جا رہے ہیں۔
ایک ڈیلر کے مطابق:
“لوگ شو روم آتے ہیں، گاڑی دیکھتے ہیں، قیمت پوچھتے ہیں، لیکن خریدنے سے پہلے کئی بار سوچتے ہیں۔”
چھوٹی گاڑیوں کی مانگ نسبتاً بہتر
دسمبر میں اگر کسی طبقے کی گاڑیوں کی مانگ نسبتاً بہتر رہی تو وہ چھوٹی اور کم انجن والی کاریں تھیں۔ 660cc اور 1000cc سیگمنٹ کی گاڑیوں میں دلچسپی برقرار رہی، خاص طور پر ان خریداروں میں جو پہلی بار گاڑی خریدنا چاہتے ہیں۔
وجہ صاف ہے:
- ایندھن کی قیمتیں اب بھی زیادہ ہیں
- مینٹیننس مہنگی ہو چکی ہے
- بڑی گاڑی عام صارف کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے
اسی لیے لوگ اب “ضرورت کی گاڑی” خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں، شوق کی نہیں۔
مہنگی گاڑیوں کی فروخت دباؤ میں
دوسری جانب 1300cc اور اس سے اوپر کی گاڑیوں کی فروخت دسمبر میں بھی دباؤ کا شکار رہی۔ اگرچہ کچھ کمپنیوں نے آفرز اور محدود رعایتیں دیں، مگر مجموعی طور پر مہنگی گاڑیوں کا خریدار کم نظر آیا۔
آٹو انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ متوسط طبقہ تقریباً مارکیٹ سے باہر ہو چکا ہے، جبکہ امیر طبقہ بھی اب سوچ سمجھ کر خرچ کر رہا ہے۔
ہائبرڈ گاڑیوں میں دلچسپی برقرار
ایک دلچسپ بات یہ رہی کہ ہائبرڈ گاڑیوں میں دلچسپی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اگرچہ ان کی قیمتیں اب بھی زیادہ ہیں، مگر ایندھن کی بچت کی وجہ سے کچھ خریدار انہیں مستقبل کی سرمایہ کاری سمجھ رہے ہیں۔
تاہم، ٹیکسز اور امپورٹ پالیسی کی غیر یقینی صورتحال کے باعث ہائبرڈ مارکیٹ میں وہ تیزی نہیں آ سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
بینک فنانسنگ اب بھی مسئلہ
کار فنانسنگ دسمبر 2025 میں بھی ایک بڑا مسئلہ بنی رہی۔
بینکوں کی جانب سے:
- زیادہ شرح سود
- سخت شرائط
- کم فنانسنگ لِمٹ
نے عام آدمی کے لیے قسطوں پر گاڑی خریدنا مشکل بنا دیا ہے۔
بہت سے خریدار ایسے ہیں جو فنانسنگ کے بغیر گاڑی نہیں لے سکتے، اور یہی وجہ ہے کہ سیلز پر اس کا براہِ راست اثر پڑ رہا ہے۔
روپے کی صورتحال اور قیمتیں
روپے کی قدر اگرچہ مکمل طور پر مستحکم نہیں، مگر دسمبر میں اس میں شدید اتار چڑھاؤ نہیں آیا۔ اس کے باوجود گاڑیوں کی قیمتیں نیچے نہیں آئیں۔
کار ساز کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ:
- پرزہ جات مہنگے ہیں
- درآمدی لاگت زیادہ ہے
- پیداواری اخراجات بڑھے ہوئے ہیں
جبکہ صارف کا کہنا ہے کہ قیمتیں اب حقیقت سے بہت آگے جا چکی ہیں۔
سال 2025 مجموعی طور پر کیسا رہا؟
اگر پورے سال 2025 کو دیکھا جائے تو یہ آٹو انڈسٹری کے لیے ایک مشکل مگر سبق آموز سال تھا۔
سیلز کم رہیں، مگر مارکیٹ مکمل طور پر بند بھی نہیں ہوئی۔
کچھ کمپنیوں نے خود کو بہتر طریقے سے ایڈجسٹ کیا، جبکہ کچھ اب بھی حالات بہتر ہونے کے انتظار میں ہیں۔
2026 کے بارے میں کیا توقع کی جا رہی ہے؟
ڈیلرز اور تجزیہ کاروں کی رائے ملی جلی ہے۔
اگر:
- شرح سود میں کمی آتی ہے
- فنانسنگ آسان ہوتی ہے
- اور پالیسی میں استحکام آتا ہے
تو 2026 میں کار سیلز میں بہتری ممکن ہے۔
ورنہ یہی سست روی برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
عام خریدار کیا سوچ رہا ہے؟
عام پاکستانی خریدار اس وقت کنفیوژن میں ہے۔
ایک طرف پرانی گاڑی مہنگی ہے، دوسری طرف نئی گاڑی خواب بنتی جا رہی ہے۔
اسی لیے بہت سے لوگ “ابھی نہیں” کا فیصلہ کر رہے ہیں۔
نتیجہ
دسمبر 2025 کی کار سیلز رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ پاکستان کی آٹو مارکیٹ زندہ تو ہے، مگر مضبوط نہیں۔
لوگ خریدنا چاہتے ہیں، مگر حالات اجازت نہیں دے رہے۔
جب تک قیمتیں، فنانسنگ اور معاشی صورتحال بہتر نہیں ہوتی، کار مارکیٹ میں بڑی تبدیلی کی توقع کرنا مشکل ہے۔



