اوریکل کے شریک بانی لیری ایلیسن نے ہالی ووڈ کی بڑی ڈیل میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے پیراماؤنٹ اسکاڈانس کی جانب سے وارنر برادرز ڈسکوری کے لیے دی جانے والی پیشکش کو مضبوط بنانے کے لیے چالیس اعشاریہ چار ارب ڈالر کی ذاتی ضمانت فراہم کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد وارنر برادرز کے بورڈ کو پیراماؤنٹ کی مالی صلاحیت پر موجود خدشات دور کرنا ہے، جو انہیں نیٹ فلکس کی مسابقتی پیشکش کی جانب مائل کر رہے تھے۔
یہ ضمانت پیر کے روز جمع کرائی گئی دستاویز میں ظاہر کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ لیری ایلیسن نے خود فنڈنگ کی مکمل ذمہ داری لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد وارنر برادرز کے حصص میں تقریباً تین فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ پیراماؤنٹ کے شیئرز سات فیصد سے زائد بڑھ گئے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
پیراماؤنٹ نے واضح کیا ہے کہ ترمیم شدہ شرائط کے باوجود اس کی پیشکش میں فی شیئر تیس ڈالر کی نقد رقم برقرار رہے گی۔ ہالی ووڈ کے قیمتی اثاثوں کی اس دوڑ میں وارنر برادرز کی وسیع فلمی اور ٹی وی لائبریری کو اسٹریمنگ کی جنگ میں فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے، جس کے باعث مقابلہ مزید شدت اختیار کر چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق لیری ایلیسن کی ذاتی ضمانت ایک مضبوط علامت ضرور ہے، تاہم بعض سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ وارنر برادرز کے کچھ شیئر ہولڈرز صرف اس بنیاد پر اپنی رائے تبدیل نہیں کریں گے۔ اس کے باوجود یہ قدم پیراماؤنٹ کی سنجیدگی اور مالی طاقت کو واضح کرتا ہے۔
ترمیم شدہ معاہدے کے تحت لیری ایلیسن نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ لین دین مکمل ہونے تک فیملی ٹرسٹ کو منسوخ نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کے اثاثے منتقل کریں گے۔ اس کے علاوہ پیراماؤنٹ نے ریگولیٹری رکاوٹ کی صورت میں ادا کی جانے والی فیس پانچ ارب سے بڑھا کر پانچ اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کر دی ہے اور اپنی ٹینڈر آفر کی آخری تاریخ اکیس جنوری دو ہزار چھبیس تک بڑھا دی ہے۔
یہ پیشکش اس وقت سامنے آئی جب وارنر برادرز نے اپنے شیئر ہولڈرز سے کہا تھا کہ وہ پیراماؤنٹ کی ایک سو آٹھ اعشاریہ چار ارب ڈالر کی ابتدائی پیشکش کو مسترد کر دیں، کیونکہ اس میں فنڈنگ اور ضمانت سے متعلق خدشات موجود تھے۔ تاہم وارنر برادرز کے بعض بڑے سرمایہ کاروں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر بہتر شرائط کے ساتھ نئی پیشکش سامنے آئے تو وہ اس پر غور کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب نیٹ فلکس کے ساتھ معاہدے کی صورت میں اگر وارنر برادرز پیچھے ہٹتا ہے تو اسے دو اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر بطور جرمانہ ادا کرنا ہوں گے۔ اس صورتحال نے فیصلہ مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ریگولیٹری اعتبار سے دیکھا جائے تو پیراماؤنٹ یا نیٹ فلکس میں سے کسی بھی کمپنی کے لیے یہ معاہدہ صرف شیئر ہولڈرز کی منظوری تک محدود نہیں رہے گا بلکہ امریکا اور یورپ میں سخت اینٹی ٹرسٹ جانچ کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ قانون سازوں نے میڈیا انڈسٹری میں حد سے زیادہ انضمام پر تشویش ظاہر کی ہے اور اس معاملے پر سیاسی سطح پر بھی غور متوقع ہے۔
اگر پیراماؤنٹ اور وارنر برادرز کا انضمام ہوتا ہے تو یہ ادارہ صنعت کی سب سے بڑی کمپنی بن سکتا ہے، جبکہ نیٹ فلکس کے ساتھ ممکنہ معاہدہ اس کی اسٹریمنگ بالادستی کو مزید مستحکم کر دے گا۔ ایسے میں آنے والے ہفتے ہالی ووڈ اور عالمی میڈیا انڈسٹری کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔



