ہانگ کانگ:
ہانگ کانگ کی سب سے بڑی لائسنس یافتہ کرپٹو کرنسی ایکسچینج نے بدھ کے روز اسٹاک مارکیٹ میں باضابطہ طور پر کاروبار کا آغاز کر دیا، جو ڈیجیٹل کرنسی کے شعبے میں عالمی مرکز بننے کی شہر کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، حالانکہ چین میں کرپٹو کرنسی پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔
ہانگ کانگ میں اگرچہ کرپٹو کرنسی کی تجارت اور مائننگ پر مین لینڈ چین میں پابندی ہے، تاہم نیم خودمختار شہر میں ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق اشتہارات عام دکھائی دیتے ہیں۔ مقامی حکام نے اس تیزی سے ترقی کرتی صنعت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں تاکہ دبئی اور سنگاپور جیسے دیگر مالیاتی مراکز پر سبقت حاصل کی جا سکے۔
2018 میں قائم ہونے والے ہیش کی گروپ (HashKey Group) کے حصص نے بدھ کے روز مارکیٹ میں ڈیبیو کیا۔ کمپنی نے اپنے ابتدائی عوامی شیئرز (IPO) کے ذریعے 205 ملین امریکی ڈالر اکٹھے کیے، تاہم کاروبار کے آغاز پر اس کے حصص 2.69 فیصد کمی کے بعد 6.50 ہانگ کانگ ڈالر (0.84 امریکی ڈالر) پر بند ہوئے۔
ہیش کی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ژیاؤ فینگ نے اس موقع کو کمپنی کے لیے ایک “شان دار دن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ضوابط کی مکمل پابندی کے ساتھ بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، “ہم بطور کاروباری افراد مین لینڈ چین سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ہیش کی ایک مکمل طور پر ہانگ کانگ میں پروان چڑھنے والی کمپنی ہے۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کی صنعت میں بھی صدیوں کے انسانی تجربے پر مبنی واضح اور مضبوط ریگولیٹری نظام ناگزیر ہے۔
ماہرین کے مطابق ہانگ کانگ کو کرپٹو کرنسی کو مرکزی سرمایہ کاری کے ذرائع کے طور پر آزمانے کے لیے ایک تجرباتی میدان سمجھا جا رہا ہے۔ رواں سال کے آغاز میں شہر نے اسٹیبل کوائنز کے لیے بھی لائسنسنگ نظام متعارف کرایا، جو نسبتاً کم اتار چڑھاؤ رکھنے والی ڈیجیٹل کرنسی ہوتی ہیں۔
ڈیجیٹل اثاثوں کی فرم ’’کرپٹو ایچ کے‘‘ کے سربراہ مرٹن لام کے مطابق چین اب بھی کرپٹو کرنسی کے استعمال کے حوالے سے محتاط رویہ رکھتا ہے، اسی لیے امکان ہے کہ ہانگ کانگ کو اس ٹیکنالوجی کے لیے ایک آزمائشی پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جا رہا ہو۔
فِن ٹیک ماہر اور وکیل ایٹیلکا بوگارڈی کا کہنا ہے کہ ہیش کی کے لیے مارکیٹ میں آنے کا وقت موزوں ہے، کیونکہ اس وقت آئی پی او مارکیٹ خاصی مضبوط ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک سے ڈیڑھ سال کے دوران ہانگ کانگ نے بلاک چین اور کرپٹو ٹیکنالوجی کے لیے نسبتاً دوستانہ ریگولیٹری ماحول تشکیل دیا ہے۔



