پاکستانخبریں

آزاد کشمیر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیجیٹل والٹ کا پائلٹ مرحلہ جلد شروع ہوگا

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام آئندہ سال جنوری یا فروری میں آزاد جموں و کشمیر میں اپنے ڈیجیٹل والٹ سسٹم کا پائلٹ مرحلہ شروع کرنے جا رہا ہے۔ اس اقدام کو سماجی معاونت کی ترسیل کو ڈیجیٹل بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ کمیٹی کے چودھویں اجلاس کے دوران سامنے آئی، جہاں بڑے سماجی بہبود کے پروگراموں کے آپریشنل ٹائم لائنز، ڈیجیٹل اقدامات اور مالی پائیداری کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پروگرام کی مجموعی کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سیکریٹری نے بتایا کہ ادارہ اپنی ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبے پر مقررہ وقت سے پہلے پیش رفت کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پائلٹ مرحلے کی کامیابی کے بعد ملک بھر میں ایک کروڑ مستحقین کو ڈیجیٹل والٹس کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ مکمل نفاذ مارچ دو ہزار چھبیس تک متوقع ہے۔

اس موقع پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قائم مقام گورنر نے بتایا کہ محدود اختیارات والے بینک اکاؤنٹس سے منسلک سینتیس لاکھ سمز جاری اور فعال کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی سہ ماہی میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم ڈیجیٹل والٹ سسٹم کے ذریعے تقسیم کی جائیں گی، جس سے شفافیت اور سہولت میں اضافہ ہوگا۔

انٹرآپریبلٹی کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ ون لنک کو تین ماہ کی مدت دی گئی ہے تاکہ ایک مربوط نظام تیار کیا جا سکے، جس کے ذریعے مستحقین آن لائن ادائیگیاں کر سکیں اور تمام شراکت دار بینکوں کے اے ٹی ایمز اور پوائنٹ آف سیل ایجنٹس سے نقد رقم حاصل کر سکیں۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سیکریٹری نے کمیٹی سے درخواست کی کہ مستحقین کے لیے بلا تعطل بینکاری سہولیات کو یقینی بنانے میں تعاون کیا جائے۔ انہوں نے ون لنک کے ساتھ ایک باضابطہ انتظام پر غور کی تجویز بھی دی، جیسا کہ اس کا وفاقی اداروں کے ساتھ موجودہ نظام ہے، تاکہ لین دین محفوظ اور ہموار بنایا جا سکے۔

اجلاس کے دوران پاکستان بیت المال کی مالی صورتحال پر بھی بریفنگ دی گئی۔ ڈائریکٹر فنانس نے بتایا کہ ادارے کو مطلوبہ بجٹ کے مقابلے میں کم رقم مختص کی گئی ہے اور موجودہ سہ ماہی کی رقم پہلے ہی استعمال ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود بورڈ نے مالی امداد کی حد میں اضافہ منظور کیا ہے، جس کے تحت ماہانہ امداد اور تعلیمی وظائف میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مالی وسائل اور انسانی افرادی قوت کی کمی سماجی بہبود کے پروگراموں کی مؤثر کارکردگی پر اثر انداز ہو رہی ہے، جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button