سعودی عرب کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی تفریحی صنعت میں ایک اور بڑے عالمی نام کی دلچسپی سامنے آ گئی ہے۔ یونیورسل اسٹوڈیوز نے خاموشی سے مملکت میں ممکنہ تھیم پارک کے قیام سے متعلق ابتدائی سطح پر مشاورت شروع کر دی ہے، تاہم یہ منصوبہ فی الحال صرف تصوراتی مرحلے تک محدود ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق یونیورسل اسٹوڈیوز کی مالک کمپنی اس خیال پر غور کر رہی ہے، لیکن ابھی تک کسی قسم کی منظوری یا عملی تعمیراتی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ اس وقت تمام گفتگو ابتدائی خاکوں، مشاورت اور ممکنہ فوائد کے جائزے تک محدود ہے۔
ممکنہ مقام کے طور پر قدیہ کا نام سامنے آیا ہے، جو ریاض کے جنوب مغرب میں واقع ایک وسیع تفریحی اور سیاحتی منصوبہ ہے۔ اس علاقے کو مستقبل میں سعودی عرب کے سب سے بڑے تفریحی مرکز کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے، اسی لیے عالمی تفریحی برانڈز کی توجہ اس جانب بڑھ رہی ہے۔
اگر یونیورسل اسٹوڈیوز کا یہ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو اس کی تکمیل میں کئی برس لگ سکتے ہیں، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ دو ہزار تیس کی دہائی میں مکمل ہو گا۔ فی الحال کسی بھی قسم کی حتمی ٹائم لائن یا تعمیراتی شیڈول سامنے نہیں آیا۔
حال ہی میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے سعودی عرب کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایک سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کی اور قدیہ کے منصوبے کا معائنہ بھی کیا۔ اس دورے کے بعد قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا، تاہم کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
یہ بھی واضح نہیں کہ اگر تھیم پارک بنایا جاتا ہے تو اس میں کون سی فلمی کہانیاں، جھولے یا تفریحی سرگرمیاں شامل ہوں گی، کیونکہ منصوبہ اس سطح تک ابھی پہنچا ہی نہیں جہاں ان فیصلوں پر غور کیا جائے۔
اس دلچسپی سے ایک بات ضرور واضح ہوتی ہے کہ سعودی عرب عالمی تفریحی اداروں کے لیے ایک پرکشش مارکیٹ بن چکا ہے۔ مملکت اپنے وژن کے تحت تیل پر انحصار کم کرنے اور سیاحت و تفریح کو فروغ دینے کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جن میں عالمی معیار کے تفریحی پارکس بھی شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں سیاحت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جہاں گزشتہ برس ایک کروڑوں سیاحوں نے ملک کا رخ کیا۔ ابتدائی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ موجودہ برس میں بھی یہ رفتار برقرار ہے، جس کے باعث عالمی کمپنیاں مستقبل میں سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کر رہی ہیں۔



