انٹرنیشنلخبریں

شمالی کوریا کا جاپان کے جوہری عزائم کو ہر صورت روکنے کا اعلان

سیول: شمالی کوریا نے کہا ہے کہ جاپان کے جوہری عزائم کو ہر صورت میں روکا جانا چاہیے، کیونکہ اس سے خطے اور پوری انسانیت کے لیے شدید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ پیانگ یانگ نے یہ سخت ردعمل جاپان کے ایک سرکاری عہدیدار کے مبینہ بیان کے بعد دیا ہے، جس میں جوہری ہتھیار رکھنے کی حمایت کی گئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان کے وزیرِاعظم کے دفتر سے وابستہ ایک عہدیدار نے حالیہ گفتگو میں کہا تھا کہ ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے چاہییں۔ مذکورہ عہدیدار جاپان کی سیکیورٹی پالیسی کی تیاری میں بھی شامل رہا ہے اور اس نے اس مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آخرکار ہر ملک کو اپنی سلامتی کے لیے خود پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔

شمالی کوریا نے ان بیانات کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جاپان کھل کر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کر رہا ہے، جو ایک واضح سرخ لکیر کو عبور کرنے کے مترادف ہے۔ پیانگ یانگ کے مطابق یہ بیانات کسی لغزش یا غیر ذمہ دارانہ گفتگو کا نتیجہ نہیں بلکہ جاپان کی دیرینہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ سے وابستہ جاپان اسٹڈیز کے ادارے کے سربراہ نے ایک بیان میں کہا کہ جاپان کی جوہری ہتھیاروں کی جانب پیش قدمی کو ہر قیمت پر روکا جانا ضروری ہے، کیونکہ اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جاپان نے جوہری ہتھیار حاصل کر لیے تو ایشیائی ممالک شدید خطرات سے دوچار ہو جائیں گے اور انسانیت کو ایک بڑے جوہری المیے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بیان میں شمالی کوریا کے اپنے جوہری پروگرام کا ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ پیانگ یانگ نے دو ہزار چھ میں پہلا ایٹمی تجربہ کیا تھا، جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی تھا۔ عالمی اندازوں کے مطابق شمالی کوریا کے پاس درجنوں جوہری وار ہیڈز موجود ہیں۔

شمالی کوریا بارہا یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ وہ بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود اپنے جوہری ہتھیار برقرار رکھے گا، کیونکہ وہ انہیں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ممکنہ فوجی خطرات کے خلاف دفاع کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔

ستمبر میں اقوامِ متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے شمالی کوریا کے نائب وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ ان کا ملک کسی بھی صورت میں اپنے جوہری ہتھیار ترک نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق جوہری طاقت ریاستی قانون، قومی پالیسی اور بقا کا بنیادی حق ہے۔

شمالی کوریا کے رہنما نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم اس شرط کے ساتھ کہ ان کے جوہری ہتھیاروں کو تسلیم کیا جائے اور انہیں برقرار رکھنے کی اجازت دی جائے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button