نیویارک:
پیشہ ورانہ ریسلنگ کے معروف لیجنڈ اور ڈبلیو ڈبلیو ای ہال آف فیم کے رکن مِک فولی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ڈبلیو ڈبلیو ای سے اپنے تعلقات ختم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجہ کمپنی کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے قریبی روابط ہیں، جن پر وہ طویل عرصے سے تحفظات رکھتے تھے۔
60 سالہ مِک فولی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری بیان میں کہا کہ وہ کئی مہینوں سے ڈبلیو ڈبلیو ای اور ڈونلڈ ٹرمپ کے تعلقات پر فکرمند تھے، خاص طور پر امیگریشن سے متعلق امریکی حکومت کی پالیسیوں کے تناظر میں۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ کے بعض بیانات نے انہیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا کہ وہ مزید اس ادارے کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔
مِک فولی نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ڈبلیو ڈبلیو ای کے ٹیلنٹ ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کو آگاہ کر دیا ہے کہ جب تک ڈونلڈ ٹرمپ منصبِ صدارت پر فائز ہیں، وہ کمپنی کے لیے کسی قسم کی عوامی سرگرمی یا تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جون میں موجودہ معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد وہ نیا لیجنڈز کنٹریکٹ بھی سائن نہیں کریں گے۔
دوسری جانب ڈبلیو ڈبلیو ای کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، اور میڈیا کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا بھی فوری جواب نہیں دیا گیا۔
ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک الگ بیان میں ہالی ووڈ سے تعلق رکھنے والی ایک شخصیت کے بارے میں متنازع تبصرہ کیا، جس پر انٹرنیٹ پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ ان بیانات نے سیاسی اور سماجی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا، جس میں مختلف نظریات رکھنے والے افراد نے حصہ لیا۔
مِک فولی کا یہ قدم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں سیاست اور تفریحی صنعت کے درمیان تعلقات پر پہلے ہی بحث جاری ہے، اور کئی معروف شخصیات اپنے سیاسی مؤقف کی بنیاد پر اداروں سے وابستگی یا علیحدگی کے فیصلے کر رہی ہیں۔



