پاکستانکاروبار

پاکستان کی جانب سے بائنانس کو دو ارب ڈالر تک کے اثاثوں کی ’ٹوکنائزیشن‘ کی اجازت

اسلام آباد:
پاکستان نے ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے دنیا کے معروف کرپٹو ایکسچینج بائنانس (Binance) کو ملک میں دو ارب ڈالر تک کے اثاثوں کی ’ٹوکنائزیشن‘ کے امکانات کا جائزہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان عالمی سطح پر فِن ٹیک اور ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

حکومتی اور مالیاتی حلقوں کے مطابق، اس اقدام کا مقصد جدید مالیاتی ٹیکنالوجی کو سمجھنا، اس کے فوائد اور خطرات کا جائزہ لینا، اور مستقبل میں ایک واضح ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنا ہے۔


ٹوکنائزیشن آخر ہے کیا؟

عام الفاظ میں ٹوکنائزیشن کا مطلب یہ ہے کہ کسی حقیقی اثاثے — جیسے جائیداد، سونا، بانڈز یا دیگر مالیاتی اثاثے — کو ڈیجیٹل ٹوکن کی شکل دے دی جائے، جو بلاک چین ٹیکنالوجی پر محفوظ ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر کسی عمارت کی مالیت 10 کروڑ روپے ہے تو اسے ڈیجیٹل ٹوکنز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جس سے عام سرمایہ کار بھی اس میں چھوٹے حصے کے ذریعے سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ یہی تصور دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔


بائنانس کا کردار

بائنانس اس وقت دنیا کا سب سے بڑا کرپٹو ایکسچینج سمجھا جاتا ہے، جس کے صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ پاکستان کی جانب سے بائنانس کو ٹوکنائزیشن کے امکانات پر کام کرنے کی اجازت دینا اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اب مکمل نظرانداز کرنے کے بجائے کرپٹو اور بلاک چین کو سمجھنے کی پالیسی اپنا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق، بائنانس اس مرحلے پر براہِ راست سرمایہ کاری یا ٹریڈنگ شروع نہیں کرے گا بلکہ مختلف اثاثوں کی ڈیجیٹل شکل میں منتقلی کے ماڈلز، تکنیکی ڈھانچے اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لے گا۔


دو ارب ڈالر کی حد کیوں؟

دو ارب ڈالر کی حد کو ماہرین ایک محتاط مگر عملی قدم قرار دے رہے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ابتدا میں محدود دائرے میں تجربہ کیا جائے تاکہ اگر کسی قسم کے مسائل سامنے آئیں تو انہیں بروقت سنبھالا جا سکے۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اس شعبے میں بغیر تیاری کے کوئی بڑا رسک نہیں لینا چاہتا، اسی لیے مرحلہ وار پیش رفت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔


پاکستان کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں نوجوان آبادی کی تعداد زیادہ ہے اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کرپٹو، بلاک چین اور فِن ٹیک جیسے شعبے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ، ٹوکنائزیشن کے ذریعے:

  • سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں
  • غیر رسمی معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکتی ہے
  • بیرونی سرمایہ کاری کو متوجہ کیا جا سکتا ہے

یہ سب وہ اہداف ہیں جن کی پاکستان کو اس وقت اشد ضرورت ہے۔


خدشات بھی کم نہیں

جہاں مواقع ہیں، وہیں خدشات بھی موجود ہیں۔ پاکستان میں پہلے ہی کرپٹو کرنسی کے حوالے سے واضح قوانین کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ:

  • منی لانڈرنگ
  • سرمایہ کے غیر قانونی بہاؤ
  • صارفین کے تحفظ

جیسے مسائل بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹوکنائزیشن کی اجازت دی جاتی ہے تو اس کے ساتھ مضبوط ریگولیٹری نگرانی بھی ضروری ہوگی، تاکہ عام سرمایہ کار کسی نقصان کا شکار نہ ہوں۔


اسٹیٹ بینک اور ریگولیٹرز کا کردار

اس پورے عمل میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر مالیاتی اداروں کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔ ذرائع کے مطابق، تمام سرگرمیاں متعلقہ اداروں کی نگرانی میں ہوں گی اور کسی بھی مرحلے پر کھلی چھوٹ نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس تجربے کے بعد پاکستان ایک مخصوص ڈیجیٹل اثاثہ پالیسی یا بلاک چین ریگولیشن متعارف کرا سکتا ہے۔


عالمی رجحان کا حصہ

دنیا کے کئی ممالک پہلے ہی ٹوکنائزیشن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ دبئی، سنگاپور، اور یورپی ممالک میں رئیل اسٹیٹ، بانڈز اور دیگر اثاثوں کی ڈیجیٹل ٹوکنائزیشن پر کام ہو رہا ہے۔

پاکستان کا اس عالمی رجحان میں شامل ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک مکمل طور پر پیچھے نہیں رہنا چاہتا، بلکہ محدود اور محتاط انداز میں جدید مالیاتی نظام کا حصہ بننا چاہتا ہے۔


عوامی ردِعمل

سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل حلقوں میں اس خبر پر ملا جلا ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کچھ لوگ اسے پاکستان کے لیے ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ جب تک مکمل قوانین اور عوامی آگاہی نہیں ہوگی، ایسے تجربات خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

تاہم زیادہ تر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بحث اور تجربے کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔


آگے کیا ہوگا؟

فی الحال یہ اجازت صرف ’امکانات کے جائزے‘ تک محدود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بائنانس اور متعلقہ ادارے ڈیٹا، ماڈلز اور رپورٹس تیار کریں گے، جن کی بنیاد پر مستقبل کے فیصلے کیے جائیں گے۔

اگر یہ مرحلہ کامیاب رہا تو ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان میں ٹوکنائزڈ اثاثوں کا ایک محدود مگر باقاعدہ نظام متعارف کرایا جائے۔


نتیجہ

پاکستان کی جانب سے بائنانس کو دو ارب ڈالر تک کے اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کا جائزہ لینے کی اجازت دینا ایک خاموش مگر اہم قدم ہے۔ یہ نہ مکمل منظوری ہے، نہ مکمل پابندی — بلکہ ایک درمیانی راستہ ہے۔

بدلتی ہوئی عالمی مالیاتی دنیا میں پاکستان کے لیے یہ فیصلہ مستقبل کی سمت کا تعین کر سکتا ہے، بشرطیکہ اسے سمجھ داری، شفافیت اور مضبوط نگرانی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button