انٹرنیشنلخبریں

سڈنی بیچ پر فائرنگ کا واقعہ، حملہ آور کو روکنے والے مسلم شہری کی بہادری کو عالمی سطح پر سراہا گیا

واشنگٹن / سڈنی — آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایک معروف ساحلی مقام پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد حملہ آور کو قابو میں کرنے والے مسلم شہری کی جرات نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر لی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت عالمی رہنماؤں نے اس بہادر اقدام کی تعریف کرتے ہوئے اسے انسانیت کی اعلیٰ مثال قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے واقعے کو انتہائی خوفناک قرار دیا اور کہا کہ ایسے مواقع پر اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کو بچانے والے افراد حقیقی معنوں میں ہیرو ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور کو روکنے والے شخص کے بروقت اقدام سے کئی قیمتی جانیں محفوظ رہیں۔

دوسری جانب آسٹریلوی قیادت نے بھی واقعے کے دوران متاثرین کی مدد کرنے والے شہریوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ بحران کے لمحے میں آگے بڑھ کر مدد کرنا آسٹریلوی معاشرے کی اصل پہچان ہے۔ جبکہ نیو ساؤتھ ویلز کے وزیرِ اعلیٰ نے حملہ آور کو قابو کرنے والے شہری کی جرات کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسی حوصلے نے ایک بڑے سانحے کو مزید پھیلنے سے روکا۔

آسٹریلوی میڈیا کے مطابق اس بہادر شخص کی شناخت احمد ال احمد کے طور پر ہوئی ہے، جو پیشے کے اعتبار سے پھل فروش ہیں اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سڈنی میں مقیم ہیں۔ واقعے کے دوران حملہ آور کو روکنے کی کوشش میں وہ خود بھی زخمی ہوئے اور انہیں بازو پر گولیاں لگیں، تاہم طبی حکام کے مطابق وہ خطرے سے باہر ہیں اور زیرِ علاج ہیں۔

واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہیں، جہاں صارفین احمد ال احمد کو امن، جرات اور انسانیت کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ ان کی اس بہادری نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ مشکل وقت میں انسانیت، مذہب اور قومیت سے بالاتر ہو کر سامنے آتی ہے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button