برسلز:
بیلجیم کے وزیرِاعظم بارٹ ڈی ویور نے واضح کیا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے روسی اثاثوں کو یوکرین کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرنے کے منصوبے پر اب تک دی جانے والی ضمانتیں ناکافی ہیں، اور بیلجیم اس صورتِ حال کو قبول نہیں کرے گا جہاں تمام خطرات اور ذمہ داریاں صرف اسی پر ڈال دی جائیں۔
بیلجین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم بارٹ ڈی ویور نے کہا کہ وہ ایسے کسی معاہدے کی حمایت نہیں کر سکتے جس میں بیلجیم کو واحد فریق کے طور پر قانونی اور مالی خطرات برداشت کرنا پڑیں۔ ان کے مطابق اب تک انہیں کوئی ایسی دستاویز موصول نہیں ہوئی جو بیلجیم کو اس منصوبے پر رضامند کر سکے۔
وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ وہ تاحال کسی قابلِ قبول متن کے منتظر ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یورپی یونین کے اجلاس کے دوران کوئی ایسا حل سامنے آئے گا جس میں ذمہ داری اور خطرات تمام رکن ممالک میں منصفانہ طور پر تقسیم ہوں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین کے سربراہان برسلز میں ایک اہم اجلاس کے لیے جمع ہوئے ہیں، جہاں روس کے منجمد اثاثوں کو یوکرین کے لیے مالی امداد میں استعمال کرنے پر فیصلہ کن بات چیت جاری ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر اُرزولا فان ڈیر لیئن نے اس موقع پر کہا کہ یوکرین کے لیے آئندہ دو برسوں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے کسی بھی قیمت پر حل نکالنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی رہنما اس سمٹ کو اس وقت تک ختم نہیں کریں گے جب تک یوکرین کی فنڈنگ سے متعلق واضح اور قابلِ عمل اتفاق رائے طے نہیں پا جاتا۔
ماہرین کے مطابق روسی اثاثوں کے استعمال کا معاملہ نہ صرف سیاسی بلکہ قانونی اعتبار سے بھی حساس ہے، اور بیلجیم جیسے ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی ایک ریاست کو غیر متناسب خطرات میں نہ ڈالا جائے۔



