سندھ حکومت کا ’دھریندر‘ کے جواب میں فلم ’میرا لیاری‘ کی ریلیز کا اعلانکراچی:سندھ حکومت نے حالیہ فلمی بحث کے تناظر میں ایک جرات مندانہ اور ثقافتی قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ فلم ’میرا لیاری‘ جلد ریلیز کی جائے گی۔ یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب فلم ’دھریندر‘ نے اپنے موضوع اور پیشکش کے باعث عوامی توجہ حاصل کی۔ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ’میرا لیاری‘ نہ صرف ایک فلم ہے بلکہ یہ لیاری کے عوام کی اصل کہانی، جدوجہد اور روشن پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق ’میرا لیاری‘ میں لیاری کو صرف تشدد یا منفی خبروں تک محدود کرنے کے بجائے وہاں کے لوگوں کی محنت، ثقافت، کھیلوں سے وابستگی اور فنونِ لطیفہ سے محبت کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح لیاری کے نوجوان محدود وسائل کے باوجود بڑے خواب دیکھتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔سندھ حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ فلم کسی کے خلاف ردِعمل نہیں بلکہ ایک مثبت بیانیہ پیش کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق، “ہم چاہتے ہیں کہ لوگ لیاری کو اس کی اصل پہچان کے ساتھ دیکھیں—ایک زندہ دل، باصلاحیت اور ہمت کرنے والے لوگوں کا علاقہ۔” انہوں نے مزید کہا کہ فلم کی تیاری میں مقامی فنکاروں، لکھاریوں اور نوجوانوں کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ کہانی زیادہ حقیقی اور زمینی محسوس ہو۔فلمی حلقوں اور سماجی کارکنوں نے اس اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ’میرا لیاری‘ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف لیاری بلکہ پورے سندھ کے لیے ایک مثبت مثال بن سکتی ہے۔ عوام کی بڑی تعداد بھی اس فلم کی ریلیز کی منتظر ہے، کیونکہ انہیں امید ہے کہ یہ فلم لیاری کے بارے میں پھیلے ہوئے منفی تاثر کو بدلنے میں مدد دے گی۔مجموعی طور پر، ’میرا لیاری‘ کی ریلیز کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ ثقافت اور فلم کو سماجی مکالمے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ فلم وعدے کے مطابق سامنے آتی ہے تو یہ یقیناً پاکستانی سنیما میں ایک اہم اور بامعنی اضافہ ثابت ہو سکتی ہے۔



