اسلام آباد:
پاکستان ورچوئل ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں کرپٹو مائننگ کی سرگرمیوں کا آغاز آئندہ چند ہفتوں میں کر دیا جائے گا، جس سے ملک کو اضافی بجلی کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے زرمبادلہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
ایک نجی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں بلال بن ثاقب نے بتایا کہ بٹ کوائن مائننگ کے لیے جدید ٹیکنالوجیز متعارف ہو چکی ہیں اور پاور پلانٹس میں مائننگ کارڈز نصب کر کے اس عمل کو سپورٹ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں مائننگ کا پہلا فیز شروع کیا جائے گا، جس کے بعد عوامی خدشات اور تکنیکی مسائل کو مرحلہ وار حل کیا جائے گا۔
چیئرمین پی وی آر اے کا کہنا تھا کہ کرپٹو مائننگ کے ذریعے پاکستان اپنی اضافی بجلی کو ڈالر میں تبدیل ہونے والی آمدن میں بدل سکتا ہے، جس سے ملکی معیشت کو سہارا ملے گا اور توانائی کے شعبے میں موجود مسائل میں بھی کمی آئے گی۔
بلال بن ثاقب نے بتایا کہ ایک 2025 کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرپٹو سرگرمیوں کے حوالے سے دنیا میں تیسرے نمبر پر آ چکا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2018 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کو کرپٹو کرنسی سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں، تاہم اس وقت ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے کوئی واضح قانونی فریم ورک موجود نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے حکومت نے پاکستان ورچوئل ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی، جو اب کرپٹو سے متعلق سرگرمیوں کے لیے لائسنسنگ نظام متعارف کرا رہی ہے۔ ان کے مطابق نئی ٹیکنالوجیز جیسے روبوٹکس اور کوانٹم کمپیوٹنگ کو بھی ابتدا میں غیر قانونی قرار نہیں دیا گیا بلکہ وقت کے ساتھ انہیں ریگولیٹ کیا گیا، اور یہی اصول کرپٹو کرنسی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
بلال بن ثاقب نے مزید بتایا کہ اتھارٹی بلاک چین ٹیکنالوجی کے لیے بھی قواعد و ضوابط پر کام کر رہی ہے، اور خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں پیش رفت نہ کی تو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی گرے لسٹ میں واپسی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی اپنانے کا رجحان بالخصوص نوجوانوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو مستقبل کی ٹیکنالوجیز کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے جڑے مواقع پیدا کرے۔
چیئرمین پی وی آر اے نے سنگاپور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں حکومت کی سرپرستی میں سیکیورٹی سے متعلق پائلٹ پراجیکٹس متعارف کرائے گئے، اور پاکستان بھی آئی ایم ایف پر مکمل انحصار کے بجائے کیپیٹل مارکیٹس کے ذریعے فنڈز حاصل کر سکتا ہے۔



