پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں دو نئی ٹیموں کی شمولیت کے معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے اہم پیش رفت کر لی ہے اور نئی فرنچائزز کے لیے مکمل فنانشل ماڈل تیار کر لیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد پاکستان سمیت برطانیہ، امریکا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیات کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو پی ایس ایل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی 8 جنوری کو ہونے والی نیلامی کے دوران دو نئے مالکان کا حتمی فیصلہ کرے گا۔ تیار کیے گئے فنانشل ماڈل کے تحت نئی فرنچائزز کو بھی دیگر ٹیموں کی طرح سینٹرل انکم پول سے 95 فیصد تک حصہ دیا جائے گا۔ ساتویں اور آٹھویں ٹیم کو پی ایس ایل 11 سے لے کر آئندہ پانچ ایڈیشنز تک کم از کم 85 کروڑ روپے کی ضمانت دی جائے گی، جسے سینٹرل پول انکم گارنٹی کا نام دیا گیا ہے۔ اگر کسی بھی سیزن میں فرنچائز کا حصہ اس رقم سے کم ہوا تو پی سی بی خود اس کمی کو پورا کرے گا۔
پی سی بی کی جانب سے فرنچائز ٹیموں کے نام اور لوگو سے متعلق بھی واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ کامیاب فرنچائز ٹیم اپنے نام میں شہر کے ساتھ کوئی لاحقہ شامل کر سکے گی، تاہم اس کے لیے بورڈ کی تحریری پیشگی منظوری لازمی ہوگی۔ کمرشل یا تجارتی برانڈ نام اور موجودہ فرنچائزز جیسے قلندرز، کنگز، یونائیٹڈ، زلمی، گلیڈی ایٹرز اور سلطانز جیسے لاحقے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسی طرح ٹیم کے لوگو کے لیے بھی بورڈ کی پیشگی منظوری ضروری ہوگی اور کمرشل برانڈنگ کو شامل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
تمام بولی دہندگان کو اپنے ٹیکنیکل پروپوزل میں مجوزہ ٹیم کا نام اور لوگو شامل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ پی ایس ایل کے کسی بھی سیزن میں حاصل ہونے والی سینٹرل پول آمدنی تمام شریک فرنچائزز میں برابر تقسیم کی جائے گی۔ میڈیا رائٹس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں ٹیکسز، پروڈکشن اور لائسنسنگ فیس منہا کرنے کے بعد فرنچائزز کو 95 فیصد حصہ دیا جائے گا، جبکہ اسپانسر شپ اور ٹکٹس کی فروخت سے حاصل شدہ رقم سے بھی اتنا ہی شیئر ملے گا۔ سینٹرل لائسنسنگ انکم کا 85 فیصد حصہ فرنچائزز کو دیا جائے گا۔
پی سی بی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کامیاب بڈرز ابتدائی تین سال کے دوران فرنچائز فروخت یا ملکیت منتقل نہیں کر سکیں گے۔ چوتھے سال پی سی بی کی تحریری اجازت سے فرنچائز کی منتقلی ممکن ہوگی، جس کے لیے سالانہ فرنچائز فیس کا 10 فیصد بطور ٹرانسفر فیس ادا کرنا لازم ہوگا۔ پی ایس ایل کے 20ویں ایڈیشن کے بعد فرنچائزز کے فیصد حصے کا حتمی تعین پاکستان کرکٹ بورڈ کرے گا۔



