پاکستانخبریںکاروبار

بلوچستان کے معدنی شعبے میں پاکستانی کاروباری گروپس کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری

اسلام آباد: پاکستان کے پانچ بڑے کاروباری گروپس نے بلوچستان کے معدنی وسائل کے شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد ملک میں قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا اور معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

دستخط شدہ معاہدے کے مطابق یہ سرمایہ کاری بلوچستان کے ضلع چاغی میں قیمتی معدنیات کی تلاش اور دریافت کے لیے استعمال کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے نہ صرف ملکی معیشت کو فائدہ ہوگا بلکہ مقامی سطح پر ترقی کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔

اس موقع پر سابق وفاقی وزیر اور معروف صنعت کار گوہر اعجاز نے کہا کہ بلوچستان معدنی دولت سے مالا مال صوبہ ہے، مگر اس کے بیشتر وسائل اب تک استعمال میں نہیں لائے جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب مقامی پاکستانی کمپنیاں خود آگے بڑھ کر اس خطے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔

گوہر اعجاز کے مطابق یہ منصوبہ ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا، جس کے نتیجے میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی آبادی کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے پہلے ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ضروری ہے اور یہ معاہدہ قومی معیشت کے لیے ایک فیصلہ کن قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کے لیے سات سو ملین ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری بھی دی ہے، جو ایک کثیرالمرحلہ قومی پروگرام کے تحت فراہم کی جائے گی۔ اس پروگرام کا مقصد معاشی استحکام کو مضبوط بنانا اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔

اس منصوبے کے تحت وفاقی اور صوبائی سطح پر اصلاحات کی حمایت کی جائے گی تاکہ ملکی آمدن میں اضافہ، سرکاری اخراجات کے معیار میں بہتری اور جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنایا جا سکے۔ پروگرام کو کئی مراحل میں نافذ کیا جائے گا اور مجموعی طور پر ایک ارب پینتیس کروڑ ڈالر تک کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

اس رقم میں سے چھ سو ملین ڈالر وفاقی سطح کے منصوبوں کے لیے جبکہ ایک سو ملین ڈالر سندھ میں صوبائی پروگرام کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے تعلیم، صحت، ٹیکس نظام اور مالی نظم و نسق میں بہتری آئے گی۔

وفاقی سطح پر اس پروگرام کا مقصد منصفانہ طریقے سے محصولات میں اضافہ، بجٹ سازی کے نظام کو بہتر بنانا اور اعداد و شمار پر مبنی فیصلوں کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکس اصلاحات، سبسڈی نظام میں بہتری اور قومی شماریاتی نظام کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

سندھ میں اس پروگرام کے تحت صوبائی آمدن میں اضافہ، شفافیت اور انتظامی امور کی رفتار بہتر بنانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے عوام کا اعتماد بڑھے گا اور معاشی ترقی کو پائیدار بنیادیں فراہم ہوں گی۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button