پاکستانخبریں

پاکستان برکس میں شمولیت کا خواہاں ہے، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب

اسلام آباد:
وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان برکس (BRICS) میں شمولیت کا خواہاں ہے اور اس فورم کے اندر ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔

روسی میڈیا کو دیے گئے ایک علیحدہ انٹرویو میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا فعال رکن ہے اور برکس کے فریم ورک میں بھی مؤثر شراکت دار ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برکس جیسے عالمی پلیٹ فارم ترقی پذیر معیشتوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

وزیرِ خزانہ نے روس کے تجربات سے سیکھنے میں پاکستان کی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عوامی مالیات اور بجٹ سازی کے عمل میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کے حوالے سے روس کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، تاہم پالیسی سازی اور فیصلوں میں انسانی نگرانی کی اہمیت بدستور برقرار رہے گی۔

علاقائی روابط پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی تجارتی راہداریوں کی ترقی پر زور دیا، جن میں انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) شامل ہے۔ ان کے مطابق عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے دوران مستحکم تجارتی بہاؤ کے لیے ایسے راہداری منصوبے ناگزیر ہیں۔

انہوں نے توانائی، تیل و گیس، معدنیات، مائننگ اور صنعتی تعاون کو پاکستان اور روس کے درمیان ممکنہ اشتراک کے اہم شعبے قرار دیا۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق اسٹیل پلانٹ کے قیام سمیت مختلف منصوبوں پر دونوں ممالک کے درمیان وزارتی سطح پر بات چیت جاری ہے۔

محمد اورنگزیب نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ آذربائیجان نے پاکستان میں تقریباً دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا عوامی طور پر اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق متعدد منصوبوں پر گفتگو جاری ہے، جن میں ممکنہ آئل پائپ لائن میں سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔

وزیرِ خزانہ نے ڈیجیٹل سروسز، ٹیکنالوجی پر مبنی سروس سینٹرز، مصنوعی ذہانت، فِن ٹیک اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں آذربائیجان کی پیش رفت سے سیکھنے میں پاکستان کی دلچسپی کو بھی اجاگر کیا۔

انہوں نے پاکستان، وسطی ایشیا اور آذربائیجان کے درمیان نئی تجارتی اور ٹرانسپورٹ راہداریوں کی ترقی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بڑے تجارتی اور سرمایہ کاری اہداف کے حصول کے لیے مالیاتی آلات جیسے ضمانتیں، ایکسپورٹ کریڈٹ میکانزم، بینکاری روابط اور اسلامی مالیاتی ذرائع کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button