ماسکو: روسی حکومت نے امریکا، یوکرین اور روس کے درمیان ممکنہ سہ فریقی مذاکرات کی تیاری سے متعلق خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی کسی تجویز پر سنجیدہ سطح پر نہ تو بات ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی تیاری جاری ہے۔
اس سے ایک روز قبل یوکرین کے صدر نے کہا تھا کہ امریکا کی جانب سے سہ فریقی مذاکرات کی تجویز سامنے آئی ہے، جو گزشتہ چھ ماہ میں روس اور یوکرین کے درمیان براہِ راست ملاقات کا پہلا موقع ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے خود بھی اس بات پر شکوک کا اظہار کیا تھا کہ ایسے مذاکرات کسی ٹھوس پیش رفت کا سبب بن سکیں گے۔
روسی صدر کے خارجہ پالیسی کے مشیر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے علم کے مطابق اس منصوبے پر نہ تو باضابطہ غور کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ کسی مرحلے پر زیرِ تیاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے فی الحال کوئی عملی پیش رفت موجود نہیں۔
یوکرینی صدر نے اس تجویز کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایسے مذاکرات ہوتے ہیں تو یورپی نمائندوں کی موجودگی بھی ممکن ہے اور ایک مشترکہ اجلاس منطقی قدم ہو سکتا ہے، تاہم بعد میں انہوں نے واضح کیا کہ انہیں یقین نہیں کہ اس عمل سے کوئی نیا نتیجہ نکل سکے گا۔
دوسری جانب روسی نمائندہ ہفتے کے روز میامی پہنچا، جہاں یوکرینی اور یورپی وفود بھی پہلے ہی موجود تھے۔ یہ مذاکرات امریکی ثالثی کے تحت جاری ہیں، تاہم روسی حکام کا کہنا ہے کہ روسی نمائندہ وطن واپس جا کر رپورٹ پیش کرے گا، جس کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔
کریملن کے اعلیٰ عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی کسی نئی یا نظرثانی شدہ تجویز کا جائزہ نہیں لیا، جو حالیہ مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہو۔
واضح رہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان آخری براہِ راست سرکاری مذاکرات جولائی میں استنبول میں ہوئے تھے، جن کے نتیجے میں قیدیوں کے تبادلے تو ہوئے، لیکن جنگ کے خاتمے سے متعلق کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی تھی۔
میامی میں روسی اور یورپی نمائندوں کی موجودگی کو ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل امریکا دونوں فریقین سے الگ الگ مقامات پر بات چیت کر رہا تھا۔ تاہم تقریباً چار سال سے جاری شدید تنازع اور کشیدہ تعلقات نے براہِ راست مذاکرات کے امکانات کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
روسی حکومت کا مؤقف ہے کہ یورپی ممالک کی شمولیت مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ دوسری جانب یوکرینی صدر نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں روس کی جانب سے ڈرون حملوں، فضائی بمباری اور میزائل حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جن سے ملک کے جنوبی علاقے خاص طور پر شدید متاثر ہوئے ہیں۔



