استعفے کے لیے دباؤ ڈالنے اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا دعویٰ
اسلام آباد:
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سردار محمد سرفراز ڈوگر پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے انہیں استعفیٰ دینے پر دباؤ ڈالا اور عدالتی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔
جسٹس طارق جہانگیری نے وفاقی آئینی عدالت اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں تین درخواستیں دائر کی ہیں جن میں ان کے خلاف جعلی ڈگری سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والے ڈویژن بینچ کی کارروائی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ ڈویژن بینچ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں سماعت کر رہا ہے۔
اس کے علاوہ جسٹس جہانگیری نے چیف جسٹس ڈوگر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی باقاعدہ شکایت دائر کر دی ہے، جس میں ان پر بدانتظامی اور جانبداری کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس ڈوگر کا طرزِ عمل سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے ججز کے ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے باعث وہ اس کیس کی سماعت کے اہل نہیں رہے۔
جسٹس جہانگیری کے مطابق جب معاملہ چیف جسٹس کے روبرو زیرِ سماعت تھا (sub judice)، اس دوران چیف جسٹس نے اس کیس پر ان سے اور دیگر افراد سے گفتگو کی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان ملاقاتوں کے دوران چیف جسٹس نے اعتراف کیا کہ ان پر اس کیس کو جلد نمٹانے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
جسٹس جہانگیری نے الزام لگایا کہ چیف جسٹس نے براہِ راست اور بالواسطہ طور پر یہ تجویز دی کہ اگر وہ ایک مؤخر تاریخ والا استعفیٰ لکھ کر چیف جسٹس کے پاس امانتاً رکھوا دیں تو اس سے دباؤ ڈالنے والوں کو مطمئن کیا جا سکتا ہے اور عدالتی کارروائی کو مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق زیرِ سماعت معاملے کے ممکنہ فیصلے کو استعفے سے مشروط کرنا نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں چیف جسٹس خود اس کیس کی سماعت سے نااہل ہو جاتے ہیں۔ جسٹس جہانگیری نے چیف جسٹس ڈوگر سے کیس کی سماعت سے علیحدہ ہونے (recusal) کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے چیف جسٹس کے رویے کو عدالتی ضابطہ اخلاق کی “سنگین اور صریح خلاف ورزی” قرار دیا، کیونکہ ضابطہ اخلاق کے تحت کسی بھی جج کو زیرِ سماعت مقدمے پر فریقین سے گفتگو کرنے کی اجازت نہیں۔
جسٹس جہانگیری نے چیف جسٹس پر جانبداری کا الزام بھی عائد کیا اور مؤقف اپنایا کہ ماضی میں وہ چیف جسٹس ڈوگر کے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تبادلے اور تقرری کو چیلنج کر چکے ہیں، جس کے باعث اس کیس میں غیر جانبدارانہ سماعت ممکن نہیں۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جس چیف جسٹس کی اپنی تقرری پہلے ہی درخواست گزار کی جانب سے چیلنج کی جا چکی ہو، وہ اسی درخواست گزار کی تقرری کے خلاف کیس کی سماعت نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق ماضی کے حکمِ امتناع اور حالیہ متنازع عدالتی احکامات بھی چیف جسٹس کی جانب سے واضح جانبداری کو ظاہر کرتے ہیں۔



