ٹوکیو:
جاپان بھر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں شہریوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف ناکافی اقدامات پر مرکزی حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ مدعیان کا مؤقف ہے کہ حکومت کی موسمیاتی پالیسی نہ صرف غیر مؤثر ہے بلکہ آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف بھی ہے۔ یہ جاپان کی تاریخ میں پہلا مقدمہ ہے جس میں براہِ راست ریاست کو ماحولیاتی بے عملی پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
عدالتی درخواست کے مطابق حکومت کی جانب سے موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات انتہائی کمزور ہیں، جس کے باعث مدعیان کی صحت، روزگار اور پُرامن زندگی کا حق متاثر ہو رہا ہے۔ مقدمے میں شامل تقریباً 450 افراد کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی گرمی، شدید موسمی حالات اور ہیٹ ویوز نے ان کی روزمرہ زندگی اور معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
مقدمے کے مرکزی وکیل اکیہیرو شیما کے مطابق عدالت نے درخواست اور شواہد وصول کر لیے ہیں، جس کے بعد قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ صرف مالی معاوضے کے لیے نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری کو اجاگر کرنے کے لیے دائر کیا گیا ہے۔
مدعیان میں شامل ایک تعمیراتی کارکن کیچی آکیاما نے بتایا کہ شدید گرمی کے باعث ان کی ٹیم کو کام مکمل کرنے میں معمول سے تین گنا زیادہ وقت لگتا ہے، جس سے کاروباری نقصان ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر مزدور گرمی کے باعث بیہوش ہو جاتے ہیں یا کام کے بعد طبی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ رواں برس جاپان نے 1898 کے بعد سب سے زیادہ گرم موسم کا سامنا کیا، جس کے نتیجے میں فصلوں کو نقصان، معاشی خسارہ اور صحت کے سنگین خطرات پیدا ہوئے۔ مدعیان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت اور مؤثر پالیسیاں نافذ کی ہوتیں تو صورتحال اتنی سنگین نہ ہوتی۔
ماحولیاتی امور کی ماہرین کے مطابق ماضی میں جاپان میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے خلاف مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت کے خلاف موسمیاتی تبدیلی پر ہرجانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
یہ مقدمہ فی مدعی ایک ہزار ین ہرجانے کا مطالبہ کرتا ہے، تاہم وکلا کے مطابق اصل مقصد مالی فائدہ نہیں بلکہ عوامی شعور بیدار کرنا اور حکومت کو آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
مدعیان نے حکومت کے حالیہ کاربن اخراج کے اہداف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے، ان کا کہنا ہے کہ جاپان کے مقرر کردہ اہداف پیرس معاہدے کے تحت درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے عالمی ہدف سے مطابقت نہیں رکھتے اور یہ اہداف قانونی طور پر بھی پابند نہیں ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگرچہ اس مقدمے میں کامیابی کے امکانات محدود ہو سکتے ہیں، تاہم اس سے ماحولیاتی تبدیلی پر عوامی بحث اور حکومتی احتساب کے عمل کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔



