انڈونیشیا نے امریکا کے ساتھ باہمی ٹیرف سے متعلق معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دے دی ہے، جس پر دونوں ممالک کی قیادت آئندہ ماہ دستخط کرنے کی توقع رکھتی ہے۔ انڈونیشیا کے سینئر اقتصادی وزیر کے مطابق یہ معاہدہ طویل مذاکرات کے بعد طے پایا ہے، جس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی توازن کو بہتر بنانا ہے۔
گزشتہ برس جولائی میں امریکا نے جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت انڈونیشیا پر عائد ٹیرف کو بتیس فیصد سے کم کر کے انیس فیصد کر دیا تھا، تاہم اس فیصلے کے بعد معاہدے کی عملی اور تکنیکی شقوں پر بات چیت جاری رہی۔ اب ان مذاکرات کے مکمل ہونے کے بعد معاہدے کی تفصیلات پر دونوں فریق متفق ہو گئے ہیں۔
انڈونیشیا کے چیف اقتصادی وزیر نے واشنگٹن میں امریکی تجارتی نمائندے سے ملاقات کے بعد بتایا کہ معاہدے میں شامل تمام بنیادی اور تکنیکی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق اس دستاویز میں درج تمام اہم شقیں دونوں ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کی گئی ہیں تاکہ تجارت میں توازن قائم رکھا جا سکے۔
وزیر نے کہا کہ مذاکرات کا ایک اہم پہلو دونوں ممالک کے لیے منڈیوں تک مساوی رسائی کو یقینی بنانا تھا۔ اس کے تحت امریکا نے انڈونیشیا کی بعض اہم برآمدی اشیا، جن میں پام آئل، کافی اور چائے شامل ہیں، کو خصوصی رعایتیں فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ اقدام انڈونیشی برآمدات کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکا انڈونیشیا کے اہم معدنی وسائل تک رسائی میں گہری دلچسپی رکھتا ہے، جنہیں جدید صنعتوں اور ٹیکنالوجی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ پہلو مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔
جولائی میں اعلان کردہ فریم ورک معاہدے کے تحت انڈونیشیا نے امریکا سے توانائی، زراعت اور طیاروں کی درآمدات میں اضافے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق آئندہ ماہ دونوں ممالک کے نمائندے قانونی نوعیت کے چند باقی معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے دوبارہ ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد معاہدے پر دونوں صدور کے دستخط متوقع ہیں، جو فروری سے قبل مکمل ہو سکتے ہیں۔
امریکی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار چوبیس میں امریکا کا انڈونیشیا کے ساتھ تجارتی خسارہ سترہ اعشاریہ نو ارب ڈالر رہا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں پانچ اعشاریہ چار فیصد زیادہ تھا۔ نئے معاہدے سے توقع کی جا رہی ہے کہ اس فرق کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت مزید متوازن ہو سکے گی۔



