برلن:
جرمن حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں پھنسے ہوئے 535 افغان شہریوں کو جرمنی منتقل کرے گی، جنہیں ماضی میں جرمنی میں پناہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن وہ تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار تھے۔
جرمنی کے وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ ان افغان شہریوں کے کیسز دسمبر کے دوران مکمل کیے جائیں تاکہ وہ جلد از جلد جرمنی میں داخل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پاکستانی حکام سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے، تاہم چند معاملات ممکن ہے نئے سال میں نمٹائے جائیں۔
یہ افغان شہری ایک ایسے پناہ گزین پروگرام کے تحت منتخب کیے گئے تھے جو سابق جرمن حکومت نے شروع کیا تھا۔ تاہم مئی میں نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ پروگرام معطل کر دیا گیا، جس کے باعث سینکڑوں افغان شہری پاکستان میں انتظار کی حالت میں پھنس گئے۔
متاثرہ افغان شہریوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے ماضی میں افغانستان میں جرمن افواج کے ساتھ کام کیا، جبکہ بعض کو طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سنگین خطرات لاحق تھے، جن میں انسانی حقوق کے کارکنان، صحافی اور ان کے اہلِ خانہ شامل ہیں۔
پاکستانی حکام کی جانب سے یہ واضح کیا گیا تھا کہ سال کے اختتام تک ان افغان شہریوں کے معاملات حل کیے جائیں، بصورتِ دیگر انہیں افغانستان واپس بھیجے جانے کا خدشہ تھا۔ اس تناظر میں جرمنی کی جانب سے حالیہ فیصلہ ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
جرمن حکومت نے اس سے قبل پروگرام میں شامل 650 افغان شہریوں کو آگاہ کیا تھا کہ انہیں جرمنی میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ نئی حکومت کے مطابق یہ فیصلہ اب جرمنی کے قومی مفاد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ حکومت نے کچھ افراد کو مالی معاونت کی پیشکش بھی کی تھی تاکہ وہ جرمنی جانے کا دعویٰ واپس لے لیں، تاہم محدود تعداد میں افراد نے یہ پیشکش قبول کی۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے مطابق اب بھی تقریباً 1,800 افغان شہری پاکستان میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، سیو دی چلڈرن اور ہیومن رائٹس واچ سمیت متعدد تنظیموں نے جرمن حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان افغان شہریوں کو تحفظ فراہم کرے اور پناہ کے وعدے پورے کیے جائیں۔



