انٹرنیشنلخبریںکھیل

سابق رگبی کھلاڑی دماغی چوٹ کیس میں برطانوی عدالت سے ریلیف حاصل کرنے میں ناکام

برطانیہ کی ہائی کورٹ نے دماغی چوٹ سے متعلق ایک بڑے مقدمے میں سابق رگبی کھلاڑیوں کی درخواست مسترد کر دی ہے، جس کے بعد انہیں اپنے طبی ریکارڈز اور اعصابی ٹیسٹ رپورٹس عدالت میں جمع کروانا ہوں گی۔ اس فیصلے سے چار سال سے زائد عرصے سے جاری مقدمے میں ایک اہم قانونی رکاوٹ ختم ہو گئی ہے اور کیس کی مزید کارروائی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

سابق رگبی یونین اور رگبی لیگ کے سینکڑوں کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ کھیل کے دوران بار بار لگنے والی سر کی چوٹوں اور مسلسل معمولی جھٹکوں کے باعث وہ سنگین اعصابی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے۔ ان بیماریوں میں دماغی کمزوری، کم عمری میں یادداشت کی بیماری اور موٹر نیورون بیماری شامل ہیں، جنہوں نے ان کی صحت اور روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔

ان کھلاڑیوں نے رگبی کے عالمی اور قومی اداروں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے کھلاڑیوں کو ان خطرات سے بچانے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات نہیں کیے۔ دوسری جانب، متعلقہ اداروں نے ان الزامات کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود ہمیشہ ان کی ترجیح رہی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ مقدمہ جلد سنا جائے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سابقہ عدالتی احکامات، جن کے تحت مکمل طبی ریکارڈز اور تمام اعصابی ٹیسٹ رپورٹس فراہم کرنا لازم قرار دیا گیا تھا، مقدمے کے منصفانہ اور مؤثر انتظام کے لیے ضروری ہیں۔ جج نے واضح کیا کہ اگرچہ بعض عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا، لیکن انصاف کے تقاضوں کے تحت مقدمہ خارج کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ کھلاڑیوں کی جانب سے ریکارڈز فراہم نہ کرنے کی دلیل قابلِ قبول نہیں، کیونکہ مکمل طبی تاریخ کے بغیر مقدمے کی درست جانچ ممکن نہیں۔ عدالت کے مطابق اگر کسی غیر متعلقہ مدعی کو مرکزی مقدمے میں شامل کیا گیا تو اس سے دیگر دعوؤں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

سابق کھلاڑیوں کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرم نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عدالت کے احکامات کی مکمل تعمیل کرے گی۔ ان کے مطابق کئی دستاویزات پہلے ہی فراہم کی جا چکی ہیں اور اب اس فیصلے کے بعد مقدمہ آگے بڑھنے کی توقع ہے۔

یہ عدالتی فیصلہ ذمہ داری کے حتمی تعین سے متعلق نہیں بلکہ قانونی عمل میں تاخیر کو ختم کرنے اور مرکزی مقدمات کے انتخاب کے لیے دیا گیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اب اس کیس میں شامل ایک ہزار سے زائد سابق شوقیہ اور پیشہ ور کھلاڑیوں کے دعوؤں پر آئندہ پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button