پاکستانخبریں

سی ایم پنجاب مائنارٹی کارڈ 2025: اقلیتی برادری کے لیے مالی امداد اور سہولیات

پنجاب میں رہنے والی اقلیتی برادری کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے سی ایم پنجاب مائنارٹی کارڈ 2025 متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت کم آمدنی والے اقلیتی خاندانوں کو مالی امداد، تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ پروگرام 2025 میں شروع کیا گیا اور اگست 2025 میں اس کا دائرہ کار مزید وسیع کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

اس اسکیم کا بنیادی مقصد پنجاب میں بسنے والی اقلیتوں، جن میں مسیحی، ہندو، سکھ، پارسی اور دیگر مذہبی برادریاں شامل ہیں، کو درپیش معاشی دباؤ کم کرنا اور انہیں قومی دھارے میں باوقار زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ مائنارٹی کارڈ کے ذریعے اہل خاندانوں کو ہر تین ماہ بعد 10,500 روپے کی مالی امداد دی جاتی ہے، جبکہ بڑی مذہبی تقریبات کے موقع پر خصوصی تہوار بونس بھی فراہم کیا جاتا ہے، جس کی رقم حالیہ اپ ڈیٹ کے بعد بڑھا کر 15,000 روپے کر دی گئی ہے۔

مالی امداد کے ساتھ ساتھ یہ کارڈ تعلیمی وظائف، صحت کی سہولتوں اور فنی تربیت جیسے اہم شعبوں کا بھی احاطہ کرتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اقلیتی طلبہ کو اسکول، کالج اور اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالرشپس دی جاتی ہیں، جبکہ مستحق خاندانوں کو مخصوص اسپتالوں میں مفت یا رعایتی علاج کی سہولت بھی حاصل ہوتی ہے۔ نوجوانوں کے لیے ہنر مندی اور روزگار سے متعلق تربیتی پروگرام بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں۔

سی ایم پنجاب مائنارٹی کارڈ کے لیے وہی افراد اہل سمجھے جاتے ہیں جو پنجاب کے مستقل رہائشی ہوں، کسی اقلیتی برادری سے تعلق رکھتے ہوں اور جن کا غربت اسکور یعنی پی ایم ٹی اسکور 45 یا اس سے کم ہو۔ یہ اسکور بی آئی ایس پی اور نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری کے ذریعے طے کیا جاتا ہے، جس میں خاندان کی آمدن، اثاثے اور رہائشی حالات کو مدِنظر رکھا جاتا ہے۔ درخواست صرف خاندان کا سربراہ ہی دے سکتا ہے اور اس کے پاس درست شناختی کارڈ اور رجسٹرڈ موبائل نمبر ہونا ضروری ہے۔

مائنارٹی کارڈ کے لیے درخواست کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل اور شفاف رکھا گیا ہے۔ درخواست گزار کو سرکاری ویب پورٹل پر جا کر اکاؤنٹ بنانا ہوتا ہے، اپنی ذاتی اور گھریلو معلومات درج کر کے درخواست جمع کروانی ہوتی ہے، جس کے بعد ڈیٹا کی تصدیق کی جاتی ہے۔ درخواست جمع ہونے کے بعد اس کا اسٹیٹس آن لائن چیک کیا جا سکتا ہے تاکہ درخواست گزار کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ جن افراد کو انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں، وہ متعلقہ سرکاری دفاتر میں جا کر بھی رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔

یہ اسکیم نہ صرف مالی امداد فراہم کرتی ہے بلکہ اقلیتی برادری کے لیے شفافیت، شمولیت اور اعتماد کا پیغام بھی ہے۔ ڈیجیٹل نظام کے باعث سفارش، کرپشن اور غلط ادائیگی کے امکانات کم ہو گئے ہیں اور امداد براہِ راست مستحق افراد تک پہنچ رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس دور میں سی ایم پنجاب مائنارٹی کارڈ 2025 ہزاروں خاندانوں کے لیے ایک اہم سہارا ثابت ہو رہا ہے، جو انہیں تعلیم، صحت اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button