کراچی — پاکستان کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک کراچی کی تاریخ میں کئی جرائم پیشہ شخصیات نے اپنی چھاپ چھوڑی ہے، اور انہی میں سے ایک نام رحمان ڈاکیت کا بھی ہے۔ رحمان ڈاکیت کو شہر کے خطرناک گینگسٹرز میں شمار کیا جاتا ہے، جس نے متعدد سالوں تک غیر قانونی سرگرمیوں اور جرائم میں ملوث رہ کر عام لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کیا۔
رحمان ڈاکیت کے گروہ نے اپنے دور میں مختلف قسم کی غیر قانونی سرگرمیاں کیں، جن میں منشیات کی سمگلنگ، ہتھیاروں کا کاروبار، اور دیگر جرائم شامل تھے۔ اس کے اقدامات نے نہ صرف کراچی بلکہ پورے صوبہ سندھ میں امن و امان کی صورتحال کو متاثر کیا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق رحمان ڈاکیت کے خلاف متعدد کیسز درج تھے، اور اس کے خلاف آپریشنز کیے گئے تاکہ اس کی جرائم کی سرگرمیوں کو ختم کیا جا سکے۔ مقامی میڈیا اور عوام نے بھی اس کی غیر قانونی کارروائیوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔
رحمان ڈاکیت کے کیس نے کراچی کے جرائم پیشہ ماحول اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی روشنی ڈالی۔ اس کے خاتمے کے بعد شہر میں امن و امان کی صورتحال میں کچھ بہتری آئی، تاہم اس قسم کے جرائم کے اثرات آج بھی شہر کے کچھ حصوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
یہ کہانی کراچی کے انگریزی اور اردو میڈیا میں بار بار زیر بحث رہی ہے، اور یہ شہر کے ماضی کے تاریک اور پیچیدہ جرائم کے منظرنامے کی ایک جھلک پیش کرتی ہے۔



