انٹرنیشنلخبریں

گرین لینڈ ہماری قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے، امریکی صدر کا نیا بیان

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ایک بار پھر عالمی سیاست میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب امریکی صدر نے زور دے کر کہا کہ گرین لینڈ امریکہ کے لیے نہایت اہم ہے اور اسے قومی سلامتی کے تناظر میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں گرین لینڈ کی حفاظت مؤثر انداز میں ممکن نہیں اور امریکہ کو اس خطے میں بڑا کردار ادا کرنا ہوگا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں جنوبی امریکہ میں ہونے والی فوجی کارروائیوں نے یورپی ممالک میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے بعد گرین لینڈ کے مستقبل سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے اور یورپ کو خدشہ ہے کہ یہ خطہ بھی عالمی طاقتوں کی کشمکش کی زد میں آ سکتا ہے۔

امریکی صدر نے واضح طور پر کہا کہ گرین لینڈ جغرافیائی لحاظ سے نہایت حساس مقام پر واقع ہے اور اس کی اہمیت دفاعی نظام کے لیے بہت زیادہ ہے۔ ان کے مطابق یہاں موجود قدرتی وسائل جدید صنعت اور دفاعی ضروریات کے لیے انتہائی اہم ہیں، اس لیے امریکہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔

دوسری جانب گرین لینڈ کی قیادت نے اس مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک نہ فروخت کے لیے ہے اور نہ ہی اس کے مستقبل کا فیصلہ بیرونی بیانات یا سوشل میڈیا کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ مقامی حکومت کے مطابق گرین لینڈ ایک خودمختار خطہ ہے اور اس کی حیثیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔

ڈنمارک کی حکومت نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکی بیانات کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ ڈنمارک کی وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات ایک پرانے اتحادی کے خلاف دھمکیوں کے مترادف ہیں اور اس طرزِ عمل سے دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یورپی قیادت نے اس معاملے پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات باہمی احترام، خودمختاری اور عالمی قوانین کے تحت چلائے جانے چاہئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ سے متعلق کسی بھی فیصلے کا حق صرف وہاں کے عوام کو حاصل ہے۔

عالمی ماہرین کے مطابق یہ معاملہ آنے والے دنوں میں عالمی سیاست میں ایک نیا موڑ لا سکتا ہے، کیونکہ آرکٹک خطہ اب طاقتور ممالک کے لیے اسٹریٹجک اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں گرین لینڈ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button