واشنگٹن — جدید ٹیکنالوجی کے عالمی اتحاد پیکس سیلیکا نے بھارت کو اپنے رکن ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔ یہ اقدام عالمی سطح پر بھارت کے تکنیکی اور سفارتی اثر و رسوخ پر سوالات اٹھا رہا ہے۔ بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی اس پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے اسے ملکی وقار کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
بھارتی اپوزیشن رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ اس فیصلے کے پیچھے مئی 2025ء میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی شکست کو اہم عنصر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیکس سیلیکا کا مقصد محفوظ اور قابل اعتماد سلیکون سپلائی چین قائم کرنا ہے، اور اس اتحاد میں شمولیت کے لیے معیار اور شفافیت کو برقرار رکھنا لازمی ہے۔
اپوزیشن نے مزید کہا کہ بھارت کی خارج ہونے سے مودی حکومت کی عالمی سطح پر ساکھ متاثر ہوئی ہے اور یہ بھارت کے تکنیکی و اقتصادی اثرات میں کمی کی علامت ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیکس سیلیکا کی رکنیت عالمی مارکیٹ میں ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے مواقع کے لیے اہم ہے، اور اس سے بھارت کی تکنیکی جدت اور ڈیجیٹل معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اب بھارتی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر وضاحت کرے اور اپنے بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنائے تاکہ مستقبل میں تکنیکی اور ڈیجیٹل شراکت داری کے مواقع محفوظ رہ سکیں۔



