حکومتِ پاکستان کی جانب سے قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کے عمل میں ایک اہم مرحلہ آج مکمل ہونے جا رہا ہے، جس کے تحت ادارے کے پچھتر فیصد حصص کی بولی منعقد کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اس عمل کو شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
نجکاری کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ بولی میں حصہ لینے والے سرمایہ کار آج صبح ساڑھے دس بجے تک بند لفافوں میں اپنی بولیاں جمع کروائیں گے۔ اس کے بعد نجکاری کمیشن کا بورڈ اور کابینہ کمیٹی حوالہ قیمت کی منظوری دے گی، جو نجکاری کے عمل میں ایک کلیدی مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔
بولیاں آج سہ پہر ساڑھے تین بجے باقاعدہ تقریب کے دوران کھولی جائیں گی، جس میں تمام بولی دہندگان کو شرکت کی اجازت ہوگی۔ قواعد و ضوابط کے مطابق اسی تقریب میں حوالہ قیمت کے اعلان، بولیوں کے نتائج اور نجکاری کے دیگر اہم مراحل کو مکمل کیا جائے گا۔
بولی کے اختتام پر وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری میڈیا سے گفتگو کریں گے اور نجکاری کے عمل سے متعلق تفصیلات فراہم کریں گے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری وزیراعظم کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا مقصد قومی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا اور معیشت پر بوجھ کم کرنا ہے۔
شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نجکاری کے تمام مراحل کو سرکاری اور نجی ٹی وی چینلز کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر براہِ راست نشر کیا جائے گا، تاکہ عوام کو اس عمل پر مکمل اعتماد حاصل ہو سکے۔
حکام کے مطابق اس بار چار کے بجائے تین کمپنیاں بولی کے عمل میں حصہ لے رہی ہیں، جبکہ ایک بڑی صنعتی کمپنی نے براہِ راست شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ممکن ہے کہ وہ بعد کے مرحلے میں کامیاب کنسورشیم کا حصہ بنے۔ نجکاری کمیشن کے مطابق تمام قانونی اور انتظامی معاملات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
موجودہ انتظام کے تحت خریدار کو نئے طیاروں کی خریداری پر سیلز ٹیکس ادا نہیں کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ سابقہ نجکاری کوشش کے برعکس، خریدار کو اربوں روپے کی بعض واجب الادا رقوم ادا کرنے سے استثنیٰ حاصل ہوگا، کیونکہ ان ذمہ داریوں کو پہلے ہی حل کر لیا گیا ہے۔
حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ اس بار پی آئی اے کی بہتر قیمت حاصل ہونے کا امکان ہے، کیونکہ برطانیہ اور یورپ کے اہم روٹس کی بحالی سے ایئرلائن کی کمرشل حیثیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ سرمایہ کاروں کو بولی کے لیے دو ارب روپے کی ضمانتی رقم جمع کروانا ہوگی، جبکہ نجکاری کے بعد فوری طور پر بھاری سرمایہ کاری کا بندوبست بھی کرنا ہوگا۔
نجکاری کمیشن نے اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ قومی ایئرلائن کی نجکاری مکمل شفافیت کے ساتھ انجام پائے گی اور اس سے ادارے کی کارکردگی، سروس کے معیار اور ملکی ہوا بازی کے شعبے میں بہتری آئے گی۔



