ریاض: سعودی عرب کی وزارتِ انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری دو ہزار چھبیس سے تمام گھریلو ملازمین کی تنخواہیں صرف سرکاری منظور شدہ الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے ادا کی جائیں گی۔ اس فیصلے کا مقصد گھریلو شعبے میں اجرت کے تحفظ، شفافیت اور جوابدہی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
حکام کے مطابق اس پالیسی کے تحت ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی مساند پلیٹ فارم کے ذریعے کی جائے گی، جس میں شریک بینکوں اور ڈیجیٹل والیٹس جیسے منظور شدہ ذرائع استعمال ہوں گے۔ اس اقدام سے آجر اور ملازم کے درمیان معاہداتی تعلقات میں وضاحت اور اعتماد میں اضافہ متوقع ہے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک تنخواہ منتقلی کا نظام اجرت کی ادائیگی کو زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد بنائے گا، نقد لین دین میں کمی لائے گا اور انتظامی امور کو آسان کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ گھریلو ملازمین کے شعبے کی مجموعی سروس کوالٹی اور طویل مدتی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔
اس نظام کے تحت متعدد سہولیات فراہم کی جائیں گی، جن میں تصدیق شدہ تنخواہ کی ادائیگی، معاہدے کے خاتمے یا سفر سے متعلق امور میں آسانی اور بروقت تنخواہوں کی فراہمی شامل ہے۔ گھریلو ملازمین اسی سرکاری نظام کے ذریعے اپنی کمائی محفوظ انداز میں بیرونِ ملک اپنے اہلِ خانہ کو بھی منتقل کر سکیں گے۔
حکام نے بتایا کہ اس پالیسی کا نفاذ مرحلہ وار کیا گیا ہے۔ پہلا مرحلہ یکم جولائی دو ہزار چوبیس کو نافذ ہوا، جس کا اطلاق ان گھریلو ملازمین پر ہوا جو پہلی مرتبہ سعودی عرب آئے تھے۔ اس کا مقصد نقد ادائیگیوں میں کمی اور کام کے حالات میں بہتری لانا تھا۔
دوسرا مرحلہ جنوری دو ہزار پچیس میں متعارف کرایا گیا، جس میں چار یا اس سے زیادہ گھریلو ملازمین رکھنے والے آجر شامل کیے گئے۔ اس کے بعد جولائی دو ہزار پچیس میں تیسرے مرحلے کے تحت تین یا اس سے زیادہ ملازمین رکھنے والے آجر اس نظام کے دائرے میں آئے، جبکہ چوتھا مرحلہ یکم اکتوبر سے نافذ ہوا، جس میں دو یا اس سے زیادہ گھریلو ملازمین رکھنے والے آجر شامل ہیں۔
مساند کے تحت طے شدہ فریم ورک کے مطابق آجر اس بات کے پابند ہوں گے کہ ملازم کو وہی تنخواہ ادا کی جائے جو ملازمت کے معاہدے میں درج ہے۔ قواعد کے مطابق تنخواہ ہر ہجری مہینے کے اختتام پر ادا کی جائے گی، الا یہ کہ دونوں فریق تحریری طور پر کسی اور تاریخ پر اتفاق کریں۔
واضح کیا گیا ہے کہ گھریلو ملازمین منظور شدہ ذرائع کے ذریعے اپنی تنخواہ نقد بھی نکلوا سکتے ہیں، جس کے لیے انہیں ایک مخصوص کارڈ جاری کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق جن ملازمین پر اجرت کے تحفظ کا نظام لاگو ہوتا ہے، ان کی تنخواہیں لازمی طور پر سرکاری چینلز کے ذریعے ہی منتقل کی جائیں گی۔



