کراچی:
سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے کیرتھر نیشنل پارک سے ریت اور بجری نکالنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران متعلقہ سرکاری محکمے کی غفلت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پابندی میں توسیع کر دی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس عدنان اقبال چوہدری نے ریمارکس دیے کہ سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ مقررہ وقت کے باوجود عدالت میں اپنا جواب جمع کرانے میں ناکام رہا، حالانکہ گزشتہ سماعت میں واضح ہدایات دی گئی تھیں کہ 18 دسمبر تک تحریری جواب پیش کیا جائے۔
عدالت نے کیرتھر نیشنل پارک کی حدود میں ریت اور بجری کے حصول سے متعلق عائد کردہ پابندی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ جب تک کیس کا حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، کسی قسم کی کان کنی یا تجارتی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
بینچ نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس بھی سندھ حکومت اور دیگر فریقین کو کیرتھر نیشنل پارک کی نوٹیفائیڈ حدود کے اندر زمین الاٹ کرنے سے روکا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وائلڈ لائف سیکریٹری کو ہدایت دی گئی تھی کہ گزشتہ دس برسوں میں شروع کیے گئے جنگلی حیات کے تحفظ کے منصوبوں اور نایاب انواع کے تحفظ کے لیے قائم یا مجوزہ آسامیوں کی مکمل تفصیل عدالت میں پیش کی جائے۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ کیرتھر پروٹیکٹڈ ایریاز سندھ نہ صرف پاکستان کے بڑے قومی پارکس میں شمار ہوتے ہیں بلکہ یہ متعدد جنگلی جانوروں، پرندوں اور رینگنے والے جانوروں کا قدرتی مسکن بھی ہیں۔ درخواست کے مطابق پارک میں جانوروں کی کم از کم 276 اقسام ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
درخواست گزاروں نے مزید بتایا کہ کیرتھر نیشنل پارک سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن، پریزرویشن اینڈ کنزرویشن ایکٹ 2020 کے تحت ایک محفوظ علاقہ ہے اور یہ 33 اقسام کے ممالیہ جانوروں، 23 اقسام کے رینگنے والے جانوروں، تین اقسام کے ایمفیبینز، 29 اقسام کی مچھلیوں اور 25 اقسام کے پودوں کا مسکن ہے۔ پارک کو سندھ اُڑیال اور آئی بیکس کا اہم قدرتی ٹھکانہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری ادارے پارک کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں اور الٹا ریت و بجری نکالنے کے لیے کان کنی کے لیز جاری کر کے تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف قدرتی ماحول بلکہ قدیم قبرستانوں اور تاریخی مقامات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
وکیل کے مطابق غیر قانونی قبضوں، ریت کی بے دریغ کان کنی اور دیگر تجاوزات کے باعث کیرتھر پارک کا ماحولیاتی نظام شدید خطرے سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کی کٹائی، دریا کے کناروں کی تباہی، مٹی کی زرخیزی میں کمی اور پانی محفوظ رکھنے کی صلاحیت متاثر ہونے سے کراچی سمیت آس پاس کے علاقوں میں شدید گرمی کی لہریں، سیلاب اور غذائی عدم تحفظ جیسے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ محکمے کو جواب جمع کرانے کی آخری مہلت دینے کا عندیہ دیا ہے۔



