پاکستانخبریں

فیلڈ مارشل کے دورۂ واشنگٹن سے متعلق خبر بے بنیاد، دفتر خارجہ کی رائٹرز رپورٹ کی واضح تردید

اسلام آباد:
دفتر خارجہ نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مبینہ دورۂ واشنگٹن سے متعلق عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے نہ تو کوئی سرکاری فیصلہ ہوا ہے اور نہ ہی امریکہ میں کسی اعلیٰ سطحی ملاقات کا شیڈول طے پایا ہے۔

ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ حکومت نے میڈیا میں آنے والی رپورٹس کا جائزہ لیا ہے، تاہم فیلڈ مارشل کے دورۂ امریکہ سے متعلق کوئی مستند معلومات موجود نہیں ہیں۔ ان کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کے واشنگٹن جانے یا غزہ میں فوجی دستے بھیجنے سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

ترجمان نے زور دیا کہ پاکستان کے کسی بھی اعلیٰ سطحی سرکاری دورے کا اعلان باضابطہ طور پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے کیا جاتا ہے، اور اس وقت تک ایسی کسی سرگرمی کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

میڈیا بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دریاؤں سے متعلق یکطرفہ اقدامات نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہیں، جن کا عالمی برادری کو سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

افغانستان سے متعلق سوالات پر ترجمان نے کہا کہ وہاں دہشت گرد عناصر کی موجودگی خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس بھی پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتی ہیں، جن میں ٹی ٹی پی اور دیگر غیر ملکی دہشت گرد گروہوں کا واضح ذکر موجود ہے۔ ان کے مطابق سرحدی کشیدگی، تجارت کی معطلی اور فائر بندی کی عدم موجودگی کا براہِ راست تعلق دہشت گردی سے ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان ان تمام خدشات کو عالمی سطح پر اجاگر کر رہا ہے اور خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رائٹرز کی ایک رپورٹ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ممکنہ دورۂ امریکہ اور غزہ سے متعلق مبینہ سفارتی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا تھا، جسے اب پاکستان نے باضابطہ طور پر غلط قرار دے دیا ہے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button