کانگریس پر یہود مخالف رجحانات بڑھنے کا دعویٰ، وائٹ ہاؤس میں ہنوکا تقریب سے خطاب
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا میں کانگریس بتدریج یہود مخالف (antisemitic) ہو رہی ہے اور واشنگٹن میں یہودی یا اسرائیلی لابی اب وہ طاقت نہیں رکھتی جو ماضی میں سمجھی جاتی تھی۔
صدر ٹرمپ نے یہ ریمارکس منگل کی شب وائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والی ہنوکا (Hanukkah) کی تقریب سے خطاب کے دوران کیے۔ انہوں نے کہا،
“میں ہمیشہ یہودی عوام کا دوست اور حامی رہوں گا، لیکن اگر آپ 10، 12 یا 15 سال پیچھے جائیں تو واشنگٹن میں سب سے مضبوط لابی یہودی لابی، یعنی اسرائیل کی لابی تھی۔ اب ایسا نہیں رہا۔”
انہوں نے ماضی کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے والد انہیں بتایا کرتے تھے کہ امریکا میں سب سے طاقتور لابی یہودی یا اسرائیلی لابی ہے، مگر ان کے بقول اب حالات بدل چکے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ کانگریس یہودی برادری کے مفادات کا مؤثر انداز میں تحفظ نہیں کر رہی۔
“آپ کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر کانگریس ایسی سمت میں جا رہی ہے جو یہود مخالف کہی جا سکتی ہے،” ٹرمپ نے کہا اور چند ڈیموکریٹ اراکینِ کانگریس کے نام بھی لیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایوانِ نمائندگان میں بعض ارکان اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں اور یہ رجحان بتدریج بڑھ رہا ہے، جبکہ اسی نوعیت کے آثار اب سینیٹ میں بھی نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران اسرائیل کے حق میں کیے گئے اقدامات کا بھی حوالہ دیا، جن میں اسرائیل کی جانب سے گولان کی پہاڑیوں پر خودمختاری کو تسلیم کرنا شامل ہے۔
انہوں نے کہا، “میں نے گولان کی پہاڑیوں کے حقوق اسرائیل کو دیے۔ یہ علاقہ کھربوں ڈالر مالیت کا ہو سکتا ہے۔”
دوسری جانب، حالیہ سرویز کے مطابق امریکا میں اسرائیل کے لیے عوامی حمایت میں کمی کے آثار سامنے آ رہے ہیں، خاص طور پر ڈیموکریٹس اور نوجوان امریکیوں میں۔
جولائی 2025 میں جاری ہونے والے گیلپ سروے کے مطابق صرف 32 فیصد امریکیوں نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی حمایت کی، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔
گیلپ کے اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں 62 فیصد امریکی اسرائیلیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے تھے جبکہ فلسطینیوں کے لیے یہ شرح 15 فیصد تھی۔ اب یہ فرق کم ہو کر 33 فیصد تک آ گیا ہے، جو پہلی بار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیل کے لیے ہمدردی رکھنے والوں کی تعداد نصف سے بھی کم ہو گئی ہے۔



