پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں 16 دسمبر 2025 کو نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے باعث صرافہ بازاروں میں خریداروں کی دلچسپی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ حالیہ کمی کا رجحان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں دباؤ کا شکار ہیں اور ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بھی معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی سونے کی قیمتوں پر پڑا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کا رجحان وقتی طور پر سونے سے ہٹ کر دیگر شعبوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی شرح سود، مہنگائی کے خدشات اور معاشی پالیسیوں سے متعلق اشارے بھی سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی اہم وجوہات سمجھے جا رہے ہیں۔ انہی عوامل کی وجہ سے پاکستان میں فی تولہ اور دس گرام سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے عام خریداروں کو کچھ ریلیف ملا ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سونا طویل عرصے سے ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم قلیل مدت میں اس کی قیمتیں عالمی حالات کے زیرِ اثر رہتی ہیں۔ اگر آنے والے دنوں میں عالمی مارکیٹ میں عدم استحکام یا ڈالر کی قدر میں دوبارہ اضافہ ہوا تو سونے کی قیمتیں پھر سے بڑھ سکتی ہیں۔ اسی لیے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور مارکیٹ کے رجحانات پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
صرافہ بازار سے وابستہ افراد کے مطابق شادیوں کے سیزن کے باعث زیورات کی طلب میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، اور قیمتوں میں کمی نے خریداروں کو مزید متوجہ کیا ہے۔ عوام کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ سونا خریدتے وقت مستند صرافہ بازار سے ریٹس کی تصدیق ضرور کریں تاکہ کسی قسم کے نقصان سے بچا جا سکے۔



