انٹرنیشنلخبریں

ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ کے ’طاقتور‘ رہنماؤں کے قریب کیوں دکھائی دیتے ہیں؟

امریکی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ ایک منفرد اور متنازع شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں، اور یہی انفرادیت ان کی خارجہ پالیسی میں بھی واضح نظر آتی ہے۔ خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کے طاقتور اور آمرانہ طرزِ حکومت رکھنے والے رہنماؤں کے ساتھ ان کی قربت ہمیشہ سوالات کو جنم دیتی رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق ٹرمپ کا یہ جھکاؤ محض سفارتی ضرورت نہیں بلکہ ان کی ذاتی سوچ اور سیاسی مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔

ٹرمپ روایتی امریکی پالیسی سے ہٹ کر انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے بجائے طاقت، اثر و رسوخ اور براہِ راست فائدے کو ترجیح دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں حکمرانوں کو وسیع اختیارات حاصل ہیں، جہاں فیصلے تیزی سے اور کسی بڑی داخلی مزاحمت کے بغیر کیے جا سکتے ہیں۔ یہی اندازِ حکمرانی ٹرمپ کو متاثر کرتا ہے، کیونکہ وہ خود بھی مضبوط قیادت اور غیر معمولی اختیار کے قائل نظر آتے ہیں۔

سیاسی ماہرین کے مطابق ٹرمپ تعلقات کو نظریات کے بجائے کاروباری لین دین کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، خاص طور پر خلیجی ریاستیں، امریکہ کے لیے اسلحے کی خرید، سرمایہ کاری اور توانائی کے حوالے سے نہایت اہم ہیں۔ ان ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ٹرمپ کو معاشی اور سیاسی فوائد دلانے میں مدد دیتے ہیں، جسے وہ اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے طاقتور رہنماؤں کی جانب سے ٹرمپ کو غیر معمولی پذیرائی اور ذاتی احترام ملتا ہے۔ شاہی پروٹوکول، بڑے معاہدے اور کھلے عام تعریف ایسے عناصر ہیں جو ٹرمپ کی شخصیت سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ وہ ان رہنماؤں پر تنقید سے گریز کرتے ہیں، چاہے عالمی سطح پر ان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کیوں نہ ہوں۔

ماہرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ عالمی سیاست کو چند طاقتور افراد کے گرد گھومتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں، جہاں اداروں کے بجائے شخصیات فیصلے کریں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایسا ماڈل پہلے سے موجود ہے، اس لیے وہ اسے اپنے سیاسی تصور کے قریب پاتے ہیں۔ اس کے برعکس یورپ جیسے خطوں میں مضبوط ادارے اور جمہوری نظام ٹرمپ کے لیے اکثر تنقید کا باعث بنتے ہیں۔

مختصر یہ کہ ٹرمپ کی مشرقِ وسطیٰ کے ’طاقتور‘ رہنماؤں سے قربت صرف سفارتی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ان کے سیاسی نظریے، ذاتی رجحانات اور طاقت پر مبنی عالمی سوچ کا نتیجہ ہے۔ یہی سوچ انہیں روایتی امریکی خارجہ پالیسی سے مختلف راستے پر لے جاتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی نظام پر بھی گہرے پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button