1972 میں اپالو 17 مشن کے ساتھ ہی انسان کا چاند پر جانا رک گیا۔ اس کے بعد نصف صدی سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر کوئی انسان دوبارہ چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھ سکا۔ اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ جب ٹیکنالوجی آج کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہے تو پھر چاند پر دوبارہ جانا کیوں ممکن نہ ہو سکا؟ اس کی وجوہات سادہ نہیں بلکہ سائنسی، معاشی، سیاسی اور ترجیحاتی عوامل کا مجموعہ ہیں۔
سب سے بڑی وجہ لاگت تھی۔ اپالو پروگرام امریکی تاریخ کے مہنگے ترین منصوبوں میں سے ایک تھا۔ اربوں ڈالر خرچ کر کے چند مختصر مشن مکمل کیے گئے۔ 1970 کی دہائی میں جب ویتنام جنگ، اندرونی معاشی مسائل اور سماجی دباؤ بڑھا تو امریکی حکومت کے لیے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ چاند جیسے مہنگے منصوبے پر مسلسل سرمایہ لگاتی رہے۔ عوامی دلچسپی بھی آہستہ آہستہ کم ہونے لگی، کیونکہ چاند پر جانا “نیا” نہیں رہا تھا۔
دوسری اہم وجہ سیاسی ترجیحات میں تبدیلی تھی۔ اپالو مشن دراصل سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان برتری کی علامت تھا۔ جیسے ہی یہ مقابلہ اپنے اختتام کو پہنچا اور امریکہ نے چاند پر قدم رکھ کر اپنی برتری ثابت کر دی، ویسا سیاسی دباؤ باقی نہ رہا۔ اس کے بعد توجہ زمین کے گرد مدار، خلائی اسٹیشنز اور سیٹلائٹس کی طرف منتقل ہو گئی۔
تیسری وجہ سائنسی حکمتِ عملی میں تبدیلی ہے۔ سائنس دانوں نے محسوس کیا کہ بغیر انسان کے بھی بہت سی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ روبوٹک مشنز، سیٹلائٹس اور خلائی گاڑیاں کم خرچ اور کم خطرناک تھیں۔ مریخ، زہرہ اور بیرونی سیاروں کی کھوج کے لیے انسان کے بجائے روبوٹ بھیجنا زیادہ عملی سمجھا گیا۔
چوتھی وجہ خطرات ہیں۔ چاند پر جانا اور وہاں سے بحفاظت واپس آنا آج بھی ایک خطرناک عمل ہے۔ تابکاری، تکنیکی ناکامی، اور انسانی جانوں کو لاحق خطرات نے خلائی ایجنسیوں کو محتاط رکھا۔ کسی ایک بڑے حادثے سے پورا پروگرام برسوں پیچھے جا سکتا تھا۔
اب صورتحال بدل رہی ہے۔ امریکہ، چین اور دیگر ممالک دوبارہ چاند کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ ناسا کا آرٹیمس پروگرام مستقبل میں انسانوں کو دوبارہ چاند پر لے جانے کا منصوبہ رکھتا ہے، اس بار مستقل قیام، تحقیق اور مستقبل میں مریخ کی تیاری کے لیے۔ نجی کمپنیاں بھی اس میدان میں داخل ہو چکی ہیں، جس سے اخراجات کم اور امکانات زیادہ ہو رہے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ انسان چاند پر اس لیے نہیں گیا کہ یہ ناممکن تھا، بلکہ اس لیے کہ اس وقت دنیا کی ترجیحات کچھ اور تھیں۔ اب ایک بار پھر چاند انسان کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے، اور امکان ہے کہ آنے والے برسوں میں انسان دوبارہ وہاں قدم رکھے—اس بار عارضی نہیں بلکہ طویل المدت مقصد کے ساتھ۔



