کھیل

2026 ورلڈ کپ کے ٹکٹس کی زبردست مانگ، مگر قیمتوں پر شائقین شدید ناراض

دنیا بھر میں فٹبال کے شائقین ایک طرف 2026 کے ورلڈ کپ کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، تو دوسری طرف ٹکٹس کی قیمتوں نے کئی لوگوں کو غصے میں بھی مبتلا کر دیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ شدید تنقید کے باوجود ٹکٹس کی مانگ کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی ہے۔

سوشل میڈیا سے لے کر اسٹیڈیم کے باہر تک، ایک ہی بحث سنائی دیتی ہے:
“قیمتیں بہت زیادہ ہیں، مگر ورلڈ کپ دوبارہ کب آئے گا؟”


قیمتیں سن کر شائقین چونک گئے

جیسے ہی 2026 ورلڈ کپ کے ابتدائی ٹکٹس کی قیمتیں سامنے آئیں، شائقین نے کھل کر ناراضگی کا اظہار کیا۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بار ورلڈ کپ دیکھنا صرف امیر طبقے تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔

کچھ فینز کے مطابق،
“پہلے ہم سفر کا خرچ برداشت کرتے تھے، اب تو ٹکٹ ہی بجٹ سے باہر ہو چکا ہے۔”

خاص طور پر فیملیز کے لیے میچ دیکھنا ایک بڑا خرچ بن گیا ہے، جہاں صرف ایک میچ کا ٹکٹ ہی کئی دن کی تنخواہ کے برابر ہو سکتا ہے۔


پھر بھی مانگ کیوں اتنی زیادہ ہے؟

یہ سوال سب کے ذہن میں ہے۔
جواب شاید فٹبال کی مقبولیت اور ورلڈ کپ کے جذبات سے جڑا ہے۔

2026 کا ورلڈ کپ کئی حوالوں سے خاص ہے:

  • یہ تاریخ کا سب سے بڑا ورلڈ کپ ہوگا
  • میچز امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہوں گے
  • ٹیموں کی تعداد بھی پہلے سے زیادہ ہوگی

بہت سے شائقین جانتے ہیں کہ یہ موقع دوبارہ شاید زندگی میں نہ ملے، اسی لیے وہ قیمتوں پر شکایت تو کر رہے ہیں، مگر ٹکٹس خرید بھی رہے ہیں۔


سوشل میڈیا پر غصہ، مگر خریداری جاری

دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر جتنا غصہ نظر آ رہا ہے، عملی طور پر اتنی ہی تیزی سے ٹکٹس فروخت بھی ہو رہے ہیں۔
ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک پر ہزاروں پوسٹس میں قیمتوں کو “غیر منصفانہ” کہا جا رہا ہے، مگر ٹکٹ سیل پلیٹ فارمز پر ویٹنگ لسٹس لمبی ہوتی جا رہی ہیں۔

ایک صارف نے لکھا:
“مہنگا ہے، مگر ورلڈ کپ ہے… دل مان ہی نہیں رہا کہ چھوڑ دوں۔”


فیفا اور منتظمین کا مؤقف

فیفا اور ورلڈ کپ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ قیمتیں عالمی مارکیٹ، اسٹیڈیم کے اخراجات، سیکیورٹی اور انتظامی لاگت کو مدنظر رکھ کر رکھی گئی ہیں۔

ان کے مطابق:

  • اسٹیڈیم جدید سہولیات سے لیس ہوں گے
  • سیکیورٹی کے انتظامات پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوں گے
  • اور میچ کا مجموعی تجربہ بہتر بنایا جائے گا

تاہم شائقین کا کہنا ہے کہ سہولیات اپنی جگہ، مگر قیمتیں پھر بھی حد سے زیادہ ہیں۔


عام فین اور امیر فین کا فرق

اس ورلڈ کپ کے ساتھ ایک اور بحث بھی زور پکڑ رہی ہے، اور وہ ہے “عام فین کہاں جائے؟”

کئی لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ ورلڈ کپ آہستہ آہستہ ایک لگژری ایونٹ بنتا جا رہا ہے، جہاں:

  • VIP پیکجز آسانی سے بک ہو جاتے ہیں
  • مگر سستے ٹکٹس محدود ہوتے جا رہے ہیں

یہی وجہ ہے کہ کچھ شائقین اب اسٹیڈیم کے بجائے گھروں، کیفیز یا بڑی اسکرینز پر میچ دیکھنے کا سوچ رہے ہیں۔


ٹریول اور رہائش بھی مسئلہ

ٹکٹ کے ساتھ مسئلہ صرف وہیں ختم نہیں ہوتا۔
امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے میچز کے لیے:

  • فلائٹس
  • ہوٹلز
  • مقامی ٹرانسپورٹ

سب کچھ پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے۔ کئی شائقین کا کہنا ہے کہ ٹکٹ کے ساتھ ساتھ یہ اضافی اخراجات بھی انہیں پریشان کر رہے ہیں۔


پھر بھی فٹبال جیت رہا ہے

تمام تر شکایات، تنقید اور غصے کے باوجود ایک بات واضح ہے:
فٹبال کی کشش کم نہیں ہوئی۔

لوگ جانتے ہیں کہ:

  • یادیں قیمتی ہوتی ہیں
  • ورلڈ کپ ہر سال نہیں آتا
  • اور کچھ لمحے پیسوں سے تولے نہیں جا سکتے

اسی سوچ کے تحت بہت سے شائقین قیمتیں برداشت کر رہے ہیں۔


آگے کیا ہو سکتا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ایونٹ قریب آئے گا:

  • قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں
  • یا کچھ محدود کیٹیگریز میں رعایت آ سکتی ہے

لیکن ایک بات طے ہے: مانگ کم ہونے والی نہیں۔


آخری بات

2026 ورلڈ کپ کے ٹکٹس کی کہانی ایک عجیب تضاد کی عکاسی کرتی ہے۔
ایک طرف مہنگائی، غصہ اور تنقید…
دوسری طرف جنون، خواب اور بے پناہ مانگ۔

شاید یہی فٹبال ہے —
جہاں دل اکثر جیب پر بھاری پڑ جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button