پاکستانخبریں

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں کمی — 13 دسمبر 2025

کراچی:
پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں ہفتے کے روز، 13 دسمبر 2025 کو نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ کمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل ہی سونا ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (APSGJA) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں 2,000 روپے کی کمی واقع ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 454,262 روپے پر آ گئی۔

اسی طرح 24 قیراط سونے کے 10 گرام کی قیمت میں بھی 1,715 روپے کی کمی دیکھی گئی، جس کے بعد یہ قیمت 387,741 روپے پر آ گئی، جبکہ ایک روز قبل یہی قیمت 389,456 روپے تھی۔ سونے کی قیمتوں میں یہ کمی نہ صرف مقامی مارکیٹ بلکہ عالمی منڈی میں بھی دیکھنے میں آئی، جہاں سونا 20 ڈالر فی اونس سستا ہو کر 4,299 ڈالر پر آ گیا، جو اس سے قبل 4,319 ڈالر فی اونس تھا۔


سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجوہات

سونے کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے پیچھے کئی مقامی اور عالمی عوامل کارفرما ہیں۔ عالمی سطح پر امریکہ اور یورپ کی معیشتوں سے متعلق آنے والے تازہ معاشی اشارے، شرح سود کے حوالے سے توقعات، اور جیو پولیٹیکل صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے۔ جب عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال میں تھوڑی سی بہتری آتی ہے تو سرمایہ کار منافع حاصل کرنے کے لیے سونے کی فروخت کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، جس سے قیمتوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں روپے کی قدر، درآمدی پالیسیز، اور مقامی طلب بھی سونے کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں روپے پر دباؤ اگرچہ برقرار ہے، مگر سونے کی قیمتوں میں اچانک تیزی کے بعد منافع سمیٹنے کا رجحان دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں قیمتیں نیچے آئیں۔


چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی

سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ صرافہ مارکیٹ کے مطابق، چاندی کی فی تولہ قیمت میں 220 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 6,664 روپے پر آ گئی۔ چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عموماً صنعتی طلب اور عالمی مارکیٹ کے رجحانات سے جڑا ہوتا ہے، اور حالیہ کمی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھی جا رہی ہے۔


عالمی سطح پر سونے کے رجحانات

گزشتہ چند برسوں میں عالمی سونے کی مارکیٹ میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ ڈیجیٹل فنانشل ٹولز کی بڑھتی ہوئی دستیابی، جیسے کہ گولڈ بیکڈ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs)، موبائل انویسٹمنٹ ایپس، اور فِن ٹیک شعبے کی جدت نے سونے میں سرمایہ کاری کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔

ان سہولیات کے باعث اب صرف بڑے ادارے ہی نہیں بلکہ عام سرمایہ کار بھی عالمی سونے کی منڈی تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر خلیجی ممالک میں رہنے والے سرمایہ کاروں میں سونے کے ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے سرمایہ کاری کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے، جس نے عالمی طلب میں اضافہ کیا ہے۔


جیو پولیٹیکل اور معاشی غیر یقینی صورتحال

دنیا بھر میں جاری جیو پولیٹیکل تنازعات، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، اور بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی کشیدگیاں بھی سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ایسے حالات میں سونا عموماً ایک محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven) سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے غیر یقینی حالات میں اس کی طلب بڑھ جاتی ہے۔

تاہم جب حالات میں وقتی بہتری یا استحکام نظر آتا ہے تو سرمایہ کار دوسرے مالیاتی آلات، جیسے اسٹاک مارکیٹ یا بانڈز، کی طرف رخ کرتے ہیں، جس سے سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ حالیہ کمی بھی اسی رجحان کا نتیجہ سمجھی جا رہی ہے۔


پاکستان میں سونا بطور سرمایہ کاری

پاکستان میں سونا صدیوں سے نہ صرف زیورات بلکہ سرمایہ کاری کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ معاشی عدم استحکام، مہنگائی، اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث عوام کا اعتماد سونے پر مزید مضبوط ہوا ہے۔ بہت سے لوگ بینکوں میں رقم رکھنے کے بجائے سونے میں سرمایہ کاری کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔

خاص طور پر درمیانے طبقے اور چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے سونا ایک ایسا ذریعہ ہے جو وقت کے ساتھ اپنی قدر برقرار رکھتا ہے۔ شادی بیاہ کے مواقع پر بھی سونے کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے، جو مقامی مارکیٹ پر اثر ڈالتی ہے۔


مہنگائی کے خلاف تحفظ

سونے کو دنیا بھر میں مہنگائی کے خلاف ایک مضبوط ڈھال سمجھا جاتا ہے۔ جب افراطِ زر بڑھتا ہے اور کرنسی کی قوتِ خرید کم ہوتی ہے تو سونا اپنی قدر نسبتاً بہتر انداز میں برقرار رکھتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں مہنگائی ایک مستقل مسئلہ بنی ہوئی ہے، سونا عوام کے لیے ایک قابلِ اعتماد اثاثہ بن چکا ہے۔

حالیہ برسوں میں اشیائے خورونوش، ایندھن، اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافے نے لوگوں کو متبادل سرمایہ کاری کے ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے، اور سونا اس فہرست میں سرفہرست ہے۔


جدید اور روایتی سرمایہ کاری کا امتزاج

دلچسپ بات یہ ہے کہ اب پاکستان میں بھی سونے کی سرمایہ کاری کے جدید طریقے متعارف ہو رہے ہیں۔ اگرچہ روایتی طور پر لوگ فزیکل سونا خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں، مگر آہستہ آہستہ ڈیجیٹل گولڈ، سرٹیفکیٹس، اور دیگر جدید ذرائع بھی مقبول ہو رہے ہیں۔

یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ پاکستانی سرمایہ کار اب عالمی مالیاتی نظام کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں، جہاں سہولت، شفافیت، اور رسک مینجمنٹ کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔


مستقبل کی پیش گوئیاں

ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آئندہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ عالمی سطح پر شرح سود کی پالیسیز، امریکی ڈالر کی قدر، اور جیو پولیٹیکل صورتحال سونے کی قیمتوں کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ پاکستان میں روپے کی قدر اور درآمدی پالیسیز بھی مقامی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی رہیں گی۔

اگرچہ 13 دسمبر 2025 کو سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے، مگر طویل المدتی تناظر میں سونے کو اب بھی ایک مضبوط سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قلیل مدتی کمی کے باوجود، سرمایہ کار سونے سے مکمل طور پر منہ موڑنے کے بجائے محتاط حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں۔


نتیجہ

13 دسمبر 2025 کو پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی ایک اہم پیش رفت ہے، جو عالمی اور مقامی عوامل کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ قیمتوں میں یہ کمی وقتی ہو سکتی ہے، مگر اس نے مارکیٹ میں سرگرمی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

سونا پاکستان میں نہ صرف ایک قیمتی دھات بلکہ اعتماد، تحفظ، اور مالی استحکام کی علامت بھی ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی اور مقامی حالات کے باوجود، سونا اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے اور مستقبل میں بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا رہے گا۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button