کولکتہ:
ارجنٹائن کے عالمی شہرت یافتہ فٹبال اسٹار لیونل میسی کی کولکتہ آمد کے دوران کولکتہ اسٹیڈیم میں شدید بدنظمی اور توڑ پھوڑ کا واقعہ پیش آیا، جس نے مقامی انتظامیہ اور فٹبال شائقین کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ واقعے کے فوراً بعد اسٹیڈیم انتظامیہ اور ریاستی حکام نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
میسی کو دیکھنے کے لیے ہزاروں شائقین اسٹیڈیم کے باہر اور اندر جمع ہو گئے تھے۔ جوش و خروش اپنی جگہ، مگر ناقص انتظامات اور ہجوم پر قابو نہ پایا جا سکنے کے باعث حالات تیزی سے بگڑ گئے اور صورتحال بدنظمی میں تبدیل ہو گئی۔
واقعے کی تفصیلات
عینی شاہدین کے مطابق جیسے ہی میسی کی آمد کی خبر اسٹیڈیم کے اطراف پھیلی، شائقین بڑی تعداد میں داخلی راستوں کی طرف بڑھنے لگے۔ اس دوران سکیورٹی حصار ٹوٹ گیا اور ہجوم بے قابو ہو گیا۔
کئی جگہوں پر اسٹیڈیم کی کرسیاں، داخلی گیٹس اور حفاظتی رکاوٹیں ٹوٹ گئیں، جس سے کروڑوں روپے کے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بدنظمی کے دوران چند افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔
انتظامیہ اور پولیس کا کردار
اسٹیڈیم انتظامیہ اور پولیس نے حالات پر قابو پانے کی کوشش کی، مگر شائقین کی غیر متوقع تعداد کے باعث یہ کام آسان ثابت نہ ہوا۔ بعد ازاں اضافی پولیس فورس طلب کی گئی، جس کے بعد صورتحال کو کسی حد تک کنٹرول کیا جا سکا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شائقین کی تعداد اندازوں سے کہیں زیادہ تھی، جس کے باعث انتظامات ناکافی ثابت ہوئے۔
تحقیقات کیلئے کمیٹی کی تشکیل
واقعے کے بعد ریاستی حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو درج ذیل امور کی ذمہ داری سونپی گئی ہے:
بدنظمی اور توڑ پھوڑ کی اصل وجوہات کا تعین
سکیورٹی اور انتظامی غفلت کی نشاندہی
ذمہ دار افراد یا اداروں کے خلاف کارروائی کی سفارش
آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرنا
کمیٹی اپنی رپورٹ مقررہ مدت میں پیش کرے گی، جس کے بعد مزید فیصلے کیے جائیں گے۔
عوام اور شائقین کا ردعمل
واقعے کے بعد شائقینِ فٹبال نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیا۔
کچھ افراد نے انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی پر تنقید کی، جبکہ کئی شائقین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک تاریخی موقع بدنظمی کی نذر ہو گیا۔
شائقین کا کہنا تھا کہ اگر بہتر انتظامات کیے جاتے تو یہ ایونٹ یادگار بن سکتا تھا، مگر بدنظمی نے اس خوشی کو ماند کر دیا۔
مستقبل کیلئے سبق
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ایک واضح پیغام ہے کہ عالمی سطح کے کھلاڑیوں کی آمد کے موقع پر ہجوم کنٹرول، سکیورٹی پلاننگ اور انتظامی تیاری انتہائی ضروری ہے۔
بروقت منصوبہ بندی اور مؤثر سکیورٹی نہ صرف اسٹیڈیم کی حفاظت کے لیے ضروری ہے بلکہ شائقین کی جان و مال کے تحفظ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
نتیجہ
لیونل میسی کی کولکتہ آمد پر ہونے والی بدنظمی اور توڑ پھوڑ ایک افسوسناک واقعہ ہے، جس نے انتظامیہ کی تیاریوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تحقیقات کیلئے کمیٹی کی تشکیل ایک مثبت قدم ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس کے نتائج مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوں گے۔
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کھیلوں کے بڑے ایونٹس میں جوش و خروش کے ساتھ ساتھ ذمہ داری اور نظم و ضبط بھی انتہائی اہم ہوتے ہیں۔



