پاکستانخبریں

ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے کراچی کی بندرگاہوں پر کام ٹھپ، ہزاروں کنٹینرز پھنس گئے

کراچی:
مال بردار ٹرانسپورٹرز کی جاری ہڑتال کے باعث کراچی کی بندرگاہوں پر درآمدی و برآمدی کنٹینرز کی ہینڈلنگ مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں ملکی تجارت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ بدھ کے روز ہڑتال کے باعث پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ پر آپریشنز ٹھپ رہے اور ہزاروں کنٹینرز بندرگاہوں پر پھنس کر رہ گئے۔

ہڑتال کے باعث درآمدی اور برآمدی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ ٹرانسپورٹرز اور کنٹینرز کی عدم دستیابی کے سبب برآمد کنندگان کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔ بندرگاہوں پر ہزاروں درآمدی کنٹینرز کی کلیئرنس رکنے سے مقامی صنعتوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ خام مال کی قلت کے باعث پیداواری عمل متاثر ہو رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کراچی کی بندرگاہوں پر بڑی تعداد میں کنٹینرز ٹرمینلز پر موجود ہیں، جس کے باعث کئی جہاز بغیر کنٹینرز لوڈ کیے واپس جانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں برآمد کنندگان کو ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز کی مد میں اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل پر اس وقت 16 ہزار سے زائد کنٹینرز پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل پر تقریباً 13 ہزار درآمدی و برآمدی کنٹینرز کی نقل و حرکت معطل ہے۔

دریں اثنا پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے اعلان کیا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کے مطالبات کے حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاتا۔ کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام بندرگاہوں پر لوڈنگ اور ان لوڈنگ کا عمل بدستور معطل رہے گا۔

ملک شہزاد اعوان کے مطابق وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے ٹرانسپورٹرز کے مطالبات تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صرف یقین دہانی کافی نہیں، ہڑتال اسی وقت ختم کی جائے گی جب تحریری نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button